طیب سیف:پاکستان میں ایئرلائن انڈسٹری کو جٹ فیول کی تاریخی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے، جس کے باعث ایئرلائنز نے کرایوں میں فیول سرچارج کے ذریعے اضافے کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جٹ فیول کی قیمتیں رواں ماہ 176 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 417 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہیں، فیول کی قیمتوں میں 34 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کچھ ایئرلائنز کے مطابق فیول کی قیمتیں 70 فیصد تک بڑھ چکی ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں پر اضافی مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔
ایئرلائنز نے اعلان کیا ہے کہ بنیادی کرایہ تو برقرار رہے گا، مگر فیول سرچارج کے ذریعے اضافی چارجز عائد کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) نے لوکل پروازوں پر 10 ڈالر فیول سرچارج نافذ کیا ہے، جبکہ کینیڈا جانے والی پروازوں پر 100 ڈالر، برطانیہ کے لیے 75 ڈالر اور سعودی عرب و گلف روٹس کے لیے 50 ڈالر تک سرچارج عائد کیا گیا ہے۔ نجی ایئرلائنز نے بھی 15 سے 150 ڈالر تک اضافی چارجز نافذ کر دیے ہیں۔
ایئرلائنز حکام کا کہنا ہے کہ خلیجی فضائی حدود کی بندش اور عالمی ایندھن مارکیٹ میں قیمتوں کے بڑھنے کے سبب کرایوں میں غیر معمولی اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
مسافروں کے لیے یہ صورتحال ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے اور ایئر ٹریول کے مہنگا ہونے کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ فیول سرچارج کے بغیر آپریشن برقرار رکھنا ممکن نہیں۔