ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 سعودی عرب کا بڑا فیصلہ،ایشیا کیلئے خام تیل کی قیمتیں کم کرنے کا امکان

 سعودی عرب کا بڑا فیصلہ،ایشیا کیلئے خام تیل کی قیمتیں کم کرنے کا امکان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :سعودی عرب کی جانب سے ایشیائی خریداروں کے لیے اگست کے دوران خام تیل کی سرکاری فروخت قیمتوں   میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سپلائی میں بہتری اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی کمزور ہوتی ہوئی طلب کے باعث قیمتوں میں بڑی کمی متوقع ہے۔

 رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے فلیگ شپ خام تیل “عرب لائٹ” کی قیمت میں فی بیرل 6.5 سے 8 ڈالر تک کمی ہو سکتی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت عمان/دبئی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 1.5 سے 3 ڈالر پریمیم تک رہنے کا امکان ہے۔ یہ سطح گزشتہ چار ماہ کی کم ترین قیمتوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

 ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں خام تیل کی اسپاٹ مارکیٹ میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جہاں دبئی کرڈ کے پریمیم گزشتہ چند ماہ میں نمایاں طور پر کم ہو کر چھ سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اسی طرح عمان کے اسپاٹ ڈیفرینشلز بھی حالیہ ہفتوں میں کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ خطے میں سپلائی بڑھنے، شپنگ راستوں کی بحالی اور ایران سمیت دیگر ممالک کی ممکنہ برآمدات میں اضافے کے خدشات نے بھی مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اس کے علاوہ مغربی افریقہ، برازیل اور امریکہ سے آنے والے تیل کی دستیابی میں اضافہ بھی عالمی قیمتوں میں کمی کا سبب بن رہا ہے۔

 ادھر سعودی آئل کمپنی آرامکو نے بھی تقریباً چار ماہ کی بندش کے بعد اپنے اہم برآمدی ٹرمینل راس تنورہ سے دوبارہ لوڈنگ شروع کر دی ہے، جس سے خلیجی خطے میں سپلائی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے سرکاری قیمتوں میں یہ ممکنہ کمی ایشیائی ریفائنریز، خصوصاً چین، بھارت اور جاپان کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتی ہے، تاہم عالمی توانائی مارکیٹ میں قیمتوں کے رجحان پر اس کے اثرات آئندہ چند ہفتوں میں واضح ہوں گے۔

 سعودی حکام کی جانب سے ماہانہ خام تیل کی قیمتوں کا باضابطہ اعلان عموماً ہر ماہ کی پانچ تاریخ کے آس پاس کیا جاتا ہے۔