ویب ڈیسک : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت غیرقانونی طور پر کشمیر پر قابض ہے اور وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، عالمی برادری دیرینہ تنازعات خصوصاً مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا پُرامن حل یقینی بنائے کیونکہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
چین کے شہر شان ڈونگ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع اجلاس میں پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی موجودگی میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مؤثر اور دوٹوک انداز میں پاکستان کا موقف پیش کیا۔ خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو عالمی تنازع قرار دے دیا ۔
وزیر دفاع نے بھارتی حاضر سروس نیول افسر کلبھوشن یادیو کا بھی ذکر چھیڑا اور کہا کہ وہ پاکستان کی تحویل میں ہے اور اس پر ملکی قوانین کے مطابق احتساب جاری ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں نمایاں ہیں اور ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے بھی حامی ہیں۔
اپنے خطاب کے دوران خواجہ آصف نے پیلگام حملے سمیت ہر دہشت گرد کارروائی کی مذمت کی، کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، نہ ہی کسی ملک کو اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اس کو استعمال کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے میں امن و استحکام کا ایک اہم ستون ہے اور پاکستان اس کے اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی رکھتا ہے۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی بحران کے خاتمے پر زور دیا۔ خواجہ آصف نے افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کو خطے کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ ہے، جس سے اجتماعی طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کو چاہیے کہ وہ اس حساس معاملے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کریں۔