ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لمپ سم تنخواہ پر بھرتیاں اب براہِ راست نہیں ہوں گی، نئی ترمیم نافذ

لمپ سم تنخواہ پر بھرتیاں اب براہِ راست نہیں ہوں گی، نئی ترمیم نافذ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب نے لمپ سم تنخواہ پر بھرتیوں کے اختیارات صوبائی کابینہ کومنتقل کردیئے، اب بھرتیاں براہِ راست ممکن نہیں ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے سرکاری بھرتیوں پر عائد پابندی کی پالیسی میں اہم ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔

اس نئی ترمیم کے تحت اب ‘لمپ سم تنخواہ’ (Lump Sum Pay Package) پر کی جانے والی بھرتیاں براہِ راست ممکن نہیں ہوں گی بلکہ انہیں صوبائی کابینہ کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے لمپ سم تنخواہ پر بھرتیوں کے تمام اختیارات اب صوبائی کابینہ کو منتقل کر دیے ہیں۔

اس سے قبل 29 جولائی 2022 کے حکم نامے کے تحت سرکاری بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد تھی، تاہم لمپ سم پیکج کے حوالے سے پالیسی میں واضح ذکر موجود نہیں تھا، جسے اب ریگولیشنز ونگ کی تجویز پر واضح کر دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی پالیسی کے مطابق بھرتیوں کے حوالے سے درج ذیل طریقہ کار رائج رہے گا ، پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونے والی بھرتیاں بدستور پابندی سے مستثنیٰ رہیں گی۔

تاہم ترقیاتی منصوبوں کی اسامیوں اور قانونی و آئینی عہدوں پر تقرریوں پر پہلے ہی کوئی پابندی نہیں ہے۔

اس کے علاوہ گریڈ 1 سے 4 تک کی بھرتیوں میں نرمی کا اختیار وزیر اعلیٰ کے پاس تھا، جبکہ گریڈ 5 سے اوپر کے کیسز ایس سی سی ایف ڈی دیکھتی ہے۔