عرفان ملک: پنجاب پولیس نے شہری اطمینان کو بہتر بنانے اور پولیس اسٹیشنز کی کارکردگی میں شفافیت لانے کے لیے نئے "کی پرفارمنس انڈیکیٹرز (KPIs)" متعارف کر دئیے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر کے احکامات پر سخت مانیٹرنگ کے آغاز کے ساتھ ہی بروقت ایف آئی آر کے اندراج کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ نئے KPIs کے تحت شہری اطمینان کو پولیس کارکردگی کا مرکزی پیمانہ بنایا جائے گا، جبکہ بدسلوکی اور شکایات کے ہر کیس پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہوگی اور تمام شکایات کی باقاعدہ جانچ کی جائے گی۔
ایمرجنسی کالز پر رسپانس ٹائم کی نگرانی کو لازمی قرار دیا گیا ہے، اور تفتیشی افسران کو 24 گھنٹوں کے اندر مدعی سے رابطہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ جائے وقوعہ پر فوری حاضری اور شواہد جمع کرنے کا عمل بھی اب سختی سے لازمی ہوگا۔
چالان بروقت جمع نہ کرنے اور ناقص تفتیش کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت جوابدہی کی جائے گی، جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور مسروقہ مال کی بازیابی کو کارکردگی سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او کی عوامی اوقات میں موجودگی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
مزید براں، تھانوں میں صفائی، ویمن ڈیسک اور شہری سہولیات کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے گا، ہر ماہ کھلی کچہری کے ذریعے عوامی مسائل براہِ راست سنے جائیں گے، اور اعلیٰ افسران کے باقاعدہ انسپکشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب پولیس کے مطابق نئے KPIs کا مقصد نہ صرف پولیس کی کارکردگی بہتر بنانا ہے بلکہ عوام کے اعتماد اور شفافیت کو بھی فروغ دینا ہے۔