ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 خلیجی ممالک میں نئی نوکریوں کا طوفان! 15 لاکھ افراد درکار

 خلیجی ممالک میں نئی نوکریوں کا طوفان! 15 لاکھ افراد درکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکی اور برطانوی اداروں کی ایک مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کو آئندہ ایک دہائی کے دوران 15 لاکھ سے زائد اضافی افرادی قوت درکار ہوگی، حالانکہ خطے میں مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

امریکی اور برطانوی اداروں کی جانب سے جاری مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں آئندہ دس برسوں کے دوران انسانی لیبر کی مانگ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آٹومیشن تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، تاہم اس کے باوجود خطے میں افرادی قوت کی ضرورت کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عام تاثر کے برعکس اے آئی اور آٹومیشن ملازمتوں کے خاتمے کے بجائے کام کے کرداروں کو نئی شکل دے رہی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں متعدد شعبوں میں انسانی ورک فورس کی طلب برقرار رہے گی، چاہے کاروباری اور سرکاری سطح پر اے آئی ٹیکنالوجیز کا استعمال مزید بڑھ جائے۔

تحقیق کے مطابق یو اے ای میں ورک فورس کی مجموعی مانگ 2030 تک تقریباً 12 فیصد بڑھنے کی توقع ہے، جس کی بڑی وجوہات تعمیرات، سیاحت، لاجسٹکس، ہیلتھ کیئر، قابل تجدید توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں توسیع ہیں۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، آبادی میں اضافہ اور معاشی تنوع کے اقدامات اس طلب کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں بھی روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ سعودی ویژن 2030 کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے اور نجی شعبے کو فروغ دینے کے لیے جاری اصلاحات کے نتیجے میں ملک میں ورک فورس کی مانگ دہائی کے اختتام تک تقریباً 11 فیصد بڑھ سکتی ہے۔