ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پمز گائنی وارڈ آتشزدگی، زندہ بچنے والی نومولود کی خالہ کا انتظامیہ کے دعوے سے اختلاف

پمز گائنی وارڈ آتشزدگی، زندہ بچنے والی نومولود کی خالہ کا انتظامیہ کے دعوے سے اختلاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود کی خالہ نے انتظامیہ کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچی کو کسی ڈاکٹر نے نہیں بلکہ انہوں نے خود بچایا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نومولود کی خالہ نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت وہ موقع پر موجود تھیں۔ آگ لگتے ہی وہ وارڈ کی جانب گئیں تو ایک لیڈی ڈاکٹر سامنے سے بھاگتی ہوئی آرہی تھی۔ خاتون کے مطابق پوچھنے پر لیڈی ڈاکٹر نے کسی مرد کو بلانے کا کہا، جس پر انہوں نے ایک شخص کو بلایا۔ اس نے بتایا کہ وارڈ میں آگ لگی ہے۔

خاتون نے بتایا کہ یہ سنتے ہی وہ اندر بھاگیں اور بتایا کہ ان کی بہن کی بچی بھی اندر ہے۔ ان کے مطابق وہ وارڈ میں داخل ہوئیں اور بچی کو اٹھا لیا، اس دوران تھوڑی سی آگ ان کے بالوں اور کندھے کو بھی لگی  نومولود کی خالہ کا کہنا تھا کہ اس وقت وارڈ میں ایک بھی ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور ڈاکٹرز اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکل رہے تھے۔ ان کے مطابق ایک مرد ڈاکٹر بھی وہاں موجود تھا جو بعد میں بھاگ گیا۔

خاتون نے بتایا کہ ان کی بہن کا آپریشن ہوا تھا، انہوں نے بہن اور بچی کو ساتھ لیا اور خود بھی وارڈ سے باہر نکل گئیں نومولود کی خالہ کے مطابق پمز انتظامیہ کی جانب سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے کبھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے غلط بچی اٹھا لی ہے اور یہ بچی ان کی نہیں، جبکہ کبھی کہا جاتا ہے کہ بچی کو نرس نے اٹھایا تھا۔ خاتون کے مطابق وہاں کوئی نرس موجود نہیں تھی۔

واضح رہے کہ پمز انتظامیہ نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ نرسری میں موجود 15 نومولود میں سے ایک بچی کو لیڈی ڈاکٹر نے بچایا جبکہ باقی 14 انتقال کرگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز ہسپتال کی نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشن کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی تھی۔