ویب ڈیسک: وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے اور بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کے بعد لگائے گئے بے بنیاد الزامات ناقابل قبول ہیں۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے غیر جانبدارانہ عالمی تحقیقات کے لیے تیار ہے مگر دھمکیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے بطور مہمان خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روکا گیا تو پوری قوت سے جواب دیں گے، کسی کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے، پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ پاکستانی عوام متحد اور اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھرے ہیں، پاکستان نے دہشتگردی کو ہمیشہ اور ہر شکل میں مسترد کیا ہے، اور اس کی مذمت کی ہے، پاکستان دنیا میں دہشتگردی سے متاثرہ سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے 90 ہزار شہری دہشتگردی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، پاکستان کی معیشت نے اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے، دنیا میں دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے۔
تقریب میں وفاقی وزرا، غیر ملکی سفارتکاروں اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے دنیا بھر میں امن و سلامتی کا خواہاں ہے، اور اس کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا، اور یو این چارٹر پر عمل کرنے کی اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمارا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے، ہماری خواہش ہے کہ ان کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات ہوں، لیکن بدقسمتی سے افغانستان کی سر زمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کابل کا دورہ کیا، اور باور کروایا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے اور پر امن تعلقات چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے برداشت نہیں کیے جاسکتے۔
شہباز شریف نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ عالمی تنازع کئی دہائیوں سے حل ہونے کا منتظر ہے، کشمیریوں نے لاکھوں جانوں نچھاور کی ہیں، تاکہ وہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں، عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غزہ میں اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتا ہے، اور اقوام عالم سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم رکوائیں، ہم فلسطینی عوام کے آزاد وطن کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، تاکہ وہ پر امن طور پر رہ سکیں۔
قبل ازیں انہوں نے پااس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک کا حصہ بن رہے ہیں، جس کا نظم و ضبط دنیا میں اپنی مثال آپ ہے، مسلح افواج بانی پاکستان کے رہنما اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی میدان میں بحالی کے بعد پاکستان اب بھرپور چیلنجز کے باوجود آگے بڑھنے کی راہ پر گامزن ہے، ہم کان کنی، معدنیات، دفاعی پیداوار اور کئی شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری حاصل کر رہے ہیں۔