ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی ؛ سہیل آفریدی کا اعلان

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی ؛ سہیل آفریدی کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ  4 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔
 پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیٹکل کمیٹی میں تمام معاملات پر مشاورت کی گئی اور اتفاق ہوا کہ مارچ 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہوگا۔ وفاقی وزرا پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتا، وفاقی وزیر کی منتخب ویراعلیٰ کے خلاف زبان جو استعمال کی گئی اس کی مذمت کی جاتی ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ راستے بند کرکے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں، سیاسی لوگ ہیں سیاسی جدوجہد کریں گے، ان کا خیال ہے 9 مئی جیسا آپریشن کریں گے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرعدالتوں نے کام کرنا شروع کیا تو آدھے گھنٹے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت ہو جائے گی، سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا لیکن عمل نہیں ہوا۔

 انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے مریم صفدر نے بیان دیا کہ مجھے انڈیا سے نہیں اپنے دیگر صوبوں سے خطرہ ہے، رانا ثنا اللہ ہمیں کہتے ہیں کہ دہشت گرد ہیں، یہ خیبر پختونخوا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں،

 سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے ایم پی ایز کو اٹھایا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا کی سرحد پر راستے بند کیے گئے ہیں، ہم سیاسی اور پر امن لوگ ہیں لیکن یہ چاہتے ہیں کہ 9 مئی کی طرح پھر تحریک انصاف کے خلاف مقدمات بنائیں۔

 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور ہم پاکستان کو بچائیں گے، دوسرے صوبے کے سرکاری اہلکار خیبرپختونخوا میں داخل ہوکر ہمارے سرکاری اہلکاروں سے گتھم گتھا ہو رہے ہیں، کیا خیبرپختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے، یا خیبرپختونخوا میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ لانچ کی جارہی ہے۔

 سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر اطلاعات کو میڈیا پر بند کردیا گیا ہے، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی کوریج سے بھی میڈیا کو روکنے کی اطلاعات ملی ہیں، ریاست پاکستان پر قابض لوگ جو غلط پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ انتہائی خطرناک ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزرا کو سادہ کپڑوں میں ملبوس غنڈوں کے ذریعے اغوا کیا جا رہا ہے، کبھی وزرا پر گولی چلائی جاتی ہے اور کبھی انہیں اغوا کیا جاتا ہے، یہ تمام اقدامات ملک کو ایک خطرناک سمت میں لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور یہ پرامن ہوگا، سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولیاں چلائیں، ہم نکلیں گے، اس دفعہ جب نکلیں گے تو اس کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل جلد میڈیا کے سامنے رکھا جائے گا۔

 سہیل آفریدی نے کہا کہ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ کل ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس سیکریٹریٹ کو تھریٹ کا بہانہ بنا کر بند کیا گیا، وہ خود وہاں گئے اور چہل قدمی کی، اسی طرح جس مسجد کو تھریٹ کے نام پر بند کیا گیا وہاں جاکر خود نماز ادا کی، کوئی تھریٹ نہیں تھا بلکہ جعلی تھریٹس کے ذریعے پورے صوبے کا نظام بند کروایا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سیکریٹریٹ کینٹ کے اندر ہے اور کینٹ مکمل طور پر ان کے قبضے میں ہے، اگر کینٹ سے سیکریٹریٹ تک دہشت گرد پہنچ سکتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے تنخواہیں کس کام کی لے رہے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ان کی دلچسپی صرف خیبرپختونخوا کے وزرا کو پکڑنے اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں ہے۔ 

 وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ ہمیں ڈرا دیں گے یا اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیں گے تو یہ ان کی غلط سوچ ہے۔