ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایرانی ریال میں دوبارہ تیزی، کیا سرمایہ کاری فائدہ مند ہوگی؟

ایرانی ریال میں دوبارہ تیزی، کیا سرمایہ کاری فائدہ مند ہوگی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ پیش رفت کے بعد ایرانی کرنسی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے اور مارکیٹ میں اس کی خریداری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین اسے اب بھی محتاط سرمایہ کاری قرار دے رہے ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کہا کہ ایران پر معاشی پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور معاشی بحالی کی توقعات کے باعث ایرانی ریال میں دلچسپی بڑھ رہی ہے اور بعض سرمایہ کار اسے منافع کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 2016 میں ایران پر پابندیوں میں جزوی نرمی کے بعد ایک کروڑ ایرانی ریال کی پاکستانی روپے میں قدر نمایاں طور پر بڑھی تھی، تاہم بعد ازاں پابندیوں کی واپسی کے باعث اس میں دوبارہ کمی آ گئی۔

ملک بوستان کے مطابق حالیہ جغرافیائی اور سفارتی صورتحال کے دوران ایرانی ریال کی قدر میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور اب دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے امکانات کے بعد اس میں دوبارہ بہتری آ رہی ہے۔ ان کے بقول اسی توقع پر بعض سرمایہ کار مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی ریال میں سرمایہ کاری مکمل طور پر خطرے سے خالی نہیں، کیونکہ اگر سفارتی پیش رفت رک گئی یا خطے میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی تو قیمتیں دوبارہ نیچے جا سکتی ہیں، جبکہ مثبت پیش رفت کی صورت میں قدر میں نمایاں اضافہ بھی ممکن ہے۔

ملک بوستان نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ مختصر مدت کی حکمت عملی اپنائیں، محدود سرمایہ کاری کریں اور غیر معمولی منافع کی امید میں زیادہ رسک لینے سے گریز کریں۔ ان کے مطابق چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری نسبتاً زیادہ محتاط طریقہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو علاقائی تجارت، توانائی اور اقتصادی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور پاکستان کو بھی اس کے معاشی فوائد حاصل ہونے کا امکان ہے۔