سٹی 42 : پینل آف چیئرمین کی زیر صدارت ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں دہشت گردی میں شہدا افواج پاکستان اور سیلاب میں شہید ہونے والوں کےلیے فاتحہ خوانی کروائی گئی۔
پینل آف چئیرپرسن غلام رضا نے کورم پورا نہ ہونے پر پنجاب اسمبلی کااجلاس 28 جولائی بروز پیر دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا.
قبل ازیں پینل آف چیئرمین کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 39 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رکن وقاص مان کے بیٹے اور معروف سیاستدان میاں اظہر کے انتقال پر بھی دعائے فاتحہ کروائی گئی۔ پنجاب اسمبلی میں حالیہ دہشت گردی میں شہدا افواج پاکستان و دیگر فورسز کے انتقال پر دعائے فاتحہ کی گئی۔ اس کے علاوہ چیف وہپ رانا محمد ارشد نے سیلاب میں شہید ہونے والوں کےلیے فاتحہ خوانی کروائی۔
ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سمیت ہر ممبر کا سر شرم سے جھکا ہوا ہے وہ ضمیر کی آواز پر پریشان ہے، جس طرح اس ملک میں لاوا نئے فسطائیت و بربریت کا راج ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارمُ سینتالیس سے جھوٹ مینڈیٹ دیا اس معاشرے و ملک کو بند گلی میں قید کردیا ہے، فروری 8 میں پلاننگ سے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے ججوں کو یرغمال بناکر دھونس سے پولیس کو استعمال کرکے رزلٹ لئے۔
معین ریاض قریشی نے کہا کہ چادر چار دیواری اور ورکرز کو جیلوں میں ڈالا گیا اور اپنا رخ عدالتوں میں انصاف پر رہا، بانی پی ٹی آئی جو عوام کے دلوں کی دھڑکن ہے اور رہے گی آج وہ ڈیتھ سیل میں قید ہے، اس کی بیوی جیل میں بغیر جرم کے سزا کاٹ رہی ہے، خان کی بیوی کو وضو کیلئے گندا پانی دیا جارہا ہے۔ خان کی بہنیں کبھی ایک تو کبھی دوسری عدالت میں دھکے کھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا سیلاب و بارشوں کے باوجود آنکھیں نہیں کھل رہیں۔
ڈپٹی اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اس ہفتہ لاقانونیت کی ایک اور نئی داستان لکھی گئی، پنجاب کی بارہ کروڑ عوام کے صوبہ کے اپوزیشن لیڈر کو دس سال کی سزا دی گئی، حکومتی بنچوں سے بھی کہوں گا سزا پر ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک احمد خان بھچر کے خلاف مقدمہ تھا نو ماہ بعد ایف آئی آر ضمنی میں نام ڈالا گیا اسے سزا کےلئے دو ججز تبدیل کئے گئے۔ احمد چٹھہ اور بلال اعجاز ورک سمیت انتیس ورکرز کو بھی سزا دی گئی، ملک احمد خان بھچر کو سزا اس لیے دی کیونکہ بارہ کروڑ عوام کا صوبہ ہے، اس کی ترجمانی کی عوامی مسائل پر آواز بلند کی۔
اپوزیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر، بانی پی ٹی آئی اور دیگر رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا،اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ اپوزیشن نے احمد خان بھچر کی گرفتاری کے خلاف نعرے بازی کی۔ جس کے بعد اپوزیشن ایوان سے نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کرگئی۔
چیف وہیب مسلم لیگ نون رانا محمد ارشد نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر حملہ کرنے ولا نو مئی کے ملزم و مجرم شہدا کے مجسموں کو آگ لگانے کس منہ سے امن کی بات کرتے ہیں، اپوزیشن شر انگیزوں کا ٹولہ ہے جو فتنہ کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی نوازشریف کے خلاف آنے والے فیصلوں پر اعتراف تھا لیکن ہم نے کور کمانڈر ہائوس پر حملہ نہیں کیا۔ ماڈل کے دفتر پر پی ٹی آئی نے تین بار حملہ کیا کمپیوٹر اور موٹرسائیکل جنریٹر کو آگ لگائی گئی۔
رانا محمد ارشد نے کہا کہ ہمیں اپوزیشن لیڈر کو ملنے والی سزا پر افسوس ہے ہم انہیں کہتے ہیں عدالتوں کا سامنا کریں، یہ لوگ عدالتوں میں جانے کے بجائے مفرور ہو گئے ہیں کسی سزا یافتہ شخص کی تصویر ایوان میں لانے کی اجازت نہیں۔ دوہزار اٹھارہ میں آر ٹی ایس سسٹم کے فوت ہونے کے باعث برسر اقتدار آئے۔ انہیں نشان عبرت بنانا ضروری ہے اگر یہ ہمارے شہدا کے مجسموں کو آگ لگائیں گے تو انہیں کیسے چھوڑا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گذشتہ روز ننکانہ صاحب میں سیلاب متاثرین کی مدد کررہی تھیں، دریائے سوات میں چودہ لوگ سیلاب سے بہہ گئے وزیر اعلیٰ کے پی کے کدھر تھے۔