ویب ڈیسک: فلسطین کے معروف فنکار سلیمان منصور79 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ فلسطینی شناخت، تاریخی یادداشت اور مزاحمت کو اپنے فن کا موضوع بنانے والے منصور نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے فنی سفر میں مصوری، مجسمہ سازی، تحریر اور کارٹون کے ذریعے فلسطینی جدوجہد، سرزمین سے وابستگی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف فلسطینی فنکار سلیمان ے خاندان نے پیر کی رات ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ خاندان نے ایک بیان میں کہا، ’’آخری باب لکھا جا چکا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’ہم انتہائی بوجھل دل کے ساتھ یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ ہمارے پیارے والد انتقال کر گئے ہیں‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’دنیا کے لیے وہ خوبصورتی، یادوں اور ایسی میراث سے بھرپور زندگی چھوڑ گئے ہیں جو ان تمام لوگوں کے ذریعے زندہ رہے گی جنہیں انہوں نے متاثر کیا ‘‘۔ خاندان کے مطابق، ان کی تدفین اور تعزیتی تقریبات سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
واضح رہےکہ سلیمان منصور1947 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے قریب واقع قصبے بیرزیت میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ جدید فلسطینی فن کے نمایاں ترین فنکاروں میں شمار ہوتے تھے اور مصور، مجسمہ ساز، مصنف اور کارٹونسٹ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک ان کے فن پاروں میں فلسطینی جدوجہد، بے دخلی، سرزمین سے وابستگی اور ثقافتی یادداشت کی عکاسی ہوتی رہی۔ ان کے فن میں فلسطینی تاریخ، ثقافتی ورثے اور روزمرہ زندگی سے اخذ کیے گئے علامتی عناصر نمایاں تھے۔2024 میں انادولو سے ایک انٹرویو میں منصور نے کہا تھا کہ وہ فن کو فلسطینیوں کو دوبارہ ’’انسانی روپ دینے‘‘ کا ذریعہ سمجھتے ہیں، کیونکہ انکے بقول ’’اسرائیلیوں اور مغرب‘‘ کی جانب سے فلسطینیوں کو غیر انسانی ثابت کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔انہوں نے کہا ’’فنکاروں اور ثقافت سے وابستہ لوگوں کی حیثیت سے یہ ہمارا کردار ہے کہ ہم فلسطینی عوام کو دوبارہ انسان کے طور پر پیش کریں‘‘۔منصور کے فن میں زمین کو اکثر مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہر کوئی زمین کے لیے لڑ رہا ہے اور زمین ہی میری بنیادی تحریک ہے‘‘۔
معروف فلسطینی فنکار سلیمان منصور کے معروف ترین فن پاروں میں ’’The Camel of Hardships‘‘ (مصائب کا اونٹ) شامل ہے، جس میں ایک عمر رسیدہ فلسطینی شخص کو اپنی پشت پر یروشلم اٹھائے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر فلسطینی عوام کی استقامت کی نمایاں ترین علامتوں میں شامل ہوگئی۔ اسی انٹرویو میں منصور نے اپنے وطن سے باہر رہنے والے فلسطینیوں کے لیے اپنا پیغام بیان کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ فلسطین کو مت بھولو، اور فلسطین خوبصورت ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’میرے فن میں نفرت کا کوئی پیغام نہیں۔ اس میں خوبصورتی اور محبت ہے‘‘۔