سٹی42: پاکستان کے سینئیر سیاستدان کو اچانک طبعیت بگڑنے پر ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں داخل کر دیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئیر رہنما سابق وزیر مذہبی امور خورشید شاہ کو طبعیت ناساز ہونے پر سکھر کے این آئی سی وی ڈی ہسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے جہاں انہین انتہائی ہنگداشت کے شعبہ میں رکھا گیا ہے۔
اس سے پہلے آج دوپہر یہ خبر آئی تھی کہ خورشید احمد شا ہ چیک اپ کرانے کے لئےاین آئی سی وی ڈی سکھر گئے ہیں۔
خورشید شاہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ وہ معمول کا چیک اپ کرانے کے لیےنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکولرڈیزیز( این آئی سی وی ڈی) ہسپتال پہنچے ہیں۔
بعد میں یہ تصدیق ہوئی کہ سید خورشید شاہ کی طبعیت اچانک ناساز ہو گئی اور انہیں سکھر کےنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکولرڈیزیز( این آئی سی وی ڈی) کے انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں داخل کر لیا گیا ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ بھی ہسپتال پہنچ گئے
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ن اپنے سینئیر لیڈر خورشید شاہ کو ہسپتال میں داخل کئے جانے کی اطلاع ملنے کےبعد خود سکھر پہنچ گئے ۔انہوں نے ہسپتا؛ کا کرخورشید شاہ کی عیادت کی۔
،پیپلز پارٹی کے ایم پی اے فرخ شاہ نے بتایا ہے کہ خورشید شاہ کی طبعیت پہلے سے بہتر ہے، خورشید شاہ کو 24 گھنٹے کیلئے نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔
سید خورشید احمد شاہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئیر موسٹ سیاست دانوں میں سے ایک ہیں۔ان کی عمر 71 سال ہے۔ وہ شہید بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں شامل رہے۔ ان کے بعد وہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے با اعتماد معتمدین میں شمار ہوتے ہیں۔ سکھر سے کئی بار منتخب ہونے والے خورشید شاہ 2008 میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت میں وہ وفاقی وزیر تھے۔ 2013ء کے انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست کے بعد وہ پارلیمنٹ میں قائدِ حزب اختلاف منتخب ہوئے اور 28 مئی 2018ء تک متفقہ اپوزیشن لیڈر رہے۔ 2022 میں وہ پی ڈی ایم حکومت کا بھی حصہ رہے۔