ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بارہا رد و بدل کیا، تاہم حالیہ کمیوں کے باوجود عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہ مل سکا۔ شہری اب بھی پٹرولیم مصنوعات 400 روپے فی لیٹر سے زائد نرخ پر خریدنے پر مجبور ہیں۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین مرتبہ اضافہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں فی لیٹر قیمت مجموعی طور پر 61 روپے 16 پیسے بڑھ گئی۔ بعد ازاں حکومت نے دو مرتبہ قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا، تاہم مجموعی کمی صرف 11 روپے 80 پیسے فی لیٹر تک محدود رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق حالیہ کمیوں کے باوجود ہائی اسپیڈ ڈیزل اب بھی ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں 49 روپے 36 پیسے فی لیٹر مہنگا فروخت ہو رہا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی بلند قیمتیں نہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر بلکہ مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، کیونکہ ملک میں مال برداری اور زرعی مشینری کا بڑا حصہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر انحصار کرتا ہے۔