(سٹی 42)عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے تیسرے میڈیکل پروسیجر کا سوشل میڈیا سے پتہ چلا، بانی اس وقت سخت غصے اور قید تنہائی میں ہیں، ان کی آنکھ ضائع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ ڈر کر ڈیل کر لیں۔
اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکہ پر نورین نیازی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عید کا موقعہ گزر گیا لیکن ملاقات نہیں کرنے دی گئی، آج تو ملاقات کرنے دیں، فیملی کو بتائے بغیر انہیں اسپتال لے جاتے ہیں، ان کا کام ہے فیملی کو آگاہ کرنا، بانی کے ذاتی معالجین نے ڈاکٹر خرم کا نام دیا جبکہ اسپیشلسٹ نے ڈاکٹر ندیم قریشی کا نام دیا، ہمیں نہیں پتا کیا علاج ہو رہا یے، ہمارے ڈاکٹرز کو بتائیں گے تو پتہ چلے گا، کیا چھپا کر کوئی علاج ہوتا ہے،اب وقت آگیا ہے کہ لوگ بانی کو باہر نکالیں کیونکہ ان کے ارادے نہیں ہیں، کسی کی جرات ہے کہ اندر جاکر کر بانی سے بات کرنے کی تو مجھے بتا دیں؟ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھا کر کہتے ہیں ڈیل کر رہا ہے ۔
اس موقع پر بانی کی بڑی بہن نورین نیازی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ڈیل انھوں نے کی تھی جن کے اثاثے باہر تھے، جنھوں نے ملک میں چوری کی تھی، بانی پر کوئی جرم نہیں بیگناہ قید ہیں،ان پر ظلم ہو رہا ہے، ہم ایسے نہیں چھوڑیں گے، جیل انتظامیہ سے لے کر باتیں کرنے والے حکومتی اراکین سب اس کا حساب دیں گے، ملک میں قانون نہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اگر ن لیگ یا پی پی پی آتی تو اے ٹی ایم، پٹرول پمپ جل چکا ہوتا، یہ پی ٹی آئی ہی ہے جو ماریں کھاتی اور ظلم سہتی ہے اور چپ کرکے یہاں سے چلی جاتی ہے۔