سٹی 42 : وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، زراعت کی ترقی کیلئے ہمارے سائنسدان اور ایکسپرٹ محنت کر رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نیشنل ایگریکلچر اینڈ ریسرچ سینٹر اسلام آباد کا دورہ کیا، اس موقع پر جدید ایروپانکس طریقے سے کاشت کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ ملک کی آبادی کا65فیصدحصہ دیہات میں زندگی گزارتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، زراعت کی ترقی کیلئے ہمارے سائنسدان اور ایکسپرٹ محنت کر رہے ہیں، بہترین بیج، کھاد،معیاری پیسٹی سائیڈز سے زراعت میں انقلاب آئے گا۔ زرعی گریجویٹس کو زرعی شعبے میں کام کرنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، آلو کی پیداوار بڑھانے کیلئے ادارہ بنادیا گیا ہے، آج ہم اربوں روپے خرچ کرکے کپاس درآمد کر رہے ہیں ۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں زراعت کا ملکی معیشت میں حصہ بڑھانا ہے، پی اے آرسی میں زرعی ترقی کیلئے کام ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گنے کی پیداوار میں چین اور بھارت ہم سے آگے نکل گئے، کوشش کریں تو اگلے چند برسوں میں زراعت مضبوط ہوسکتی ہے، ہم 20سے25سال میں کاٹن کی پیداوار کا کوئی معاہدہ نہیں کرسکے۔
شہباز شریف نے کہاکہ جمہوریہ کوریا مضبوط معیشت والا ملک ہے، جمہوریہ کوریا کے تعاون سے آلو کے بیج کی پیداوار کا شاندار منصوبہ لگایا گیا، جمہوریہ کوریا کے ساتھ مختلف شعبوں میں شراکت داری چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کسان محنتی اور بہت قابل ہے۔
وزیراعظم انہوں نے کہا کہ منصوبے سے کسانوں کو بہترین پیداواری صلاحیت کا حامل معیاری بیج فراہم کرنا ہوگا، کمبائن ہارویسٹر سمیت زرعی مشینری کی مقامی تیاری پرتوجہ دی جائے، ہمیں کپاس ،گنااوردیگر فصلوں کی فی ایکڑ پیداور میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینا ہے ، سبزیوں اور پھلوں کی سٹوریج اورٹرانسپوریشن کا ناتظام ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو تربیت کیلئے چین بھیج رہے ہیں، نوجوانوں کو مناسب ماحول فراہم کریں گے تو پاکستان کی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری کاٹن کی پیداور انتہائی کم ہے، ہم اربوں ڈالر کی کاٹن درآمد کررہے ہیں، چین اور ہمارا ہمسائیہ کاٹن کی پیداوار میں ہم سے آگے نکل گیا۔