سٹی 42:سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور قومی احتساب بیورو ( نیب) نے غیر قانونی سرمایہ کاری اور ڈپازٹ اسکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو مؤثر بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور مشترکہ انفورسمنٹ کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے۔
یہ اتفاق رائے چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ اور چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آیا، جس میں عوام کو مالی فراڈ اور غیر قانونی سرمایہ کاری اسکیموں سے بچانے کے لیے تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیمیں شہریوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا رہی ہیں، جبکہ جھوٹے اور غیر معمولی منافع کے وعدوں کے ذریعے عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی کمپنی کی رجسٹریشن اسے عوام سے ڈپازٹ لینے کی اجازت نہیں دیتی، جبکہ غیر لائسنس یافتہ کمپنیوں کے لیے عوام سے سرمایہ یا ڈپازٹ وصول کرنا قانوناً جرم ہے۔
اس موقع پر چیئرمین نیب نذیر احمد بٹ نے کہا کہ مالی جرائم کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے نیب، ایس ای سی پی کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط ادارہ جاتی تعاون مالی فراڈ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دونوں اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو مزید مؤثر اور تیز بنایا جائے گا، جبکہ عوام کو بھی غیر معمولی منافع کے جھوٹے دعووں سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔