وزیر اعظم شہباز شریف کا سپر ٹیکس لگانے کا اعلان

Shahbaz Sharif
کیپشن: Shahbaz Sharif
سورس: app
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کی بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غربت کم کرنے کے لیے صاحب حیثیت افراد پر ٹیکس لگا رہے ہیں۔ 

وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کی صدارت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت کی ناتجربہ کاری اور کرپشن کی وجہ سے معیشت دیوالیہ ہونے جا رہی تھی لیکن ملک اب ان مشکلات سے نکل آئے گا, ہم نے بجٹ سے متعلق اہم فیصلے کیے اور یہ تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جو غریب کو مشکلات سے نکالنے کے لیے ہے, ہماری کوشش ہے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کے بعد ہمارے پاس 2 راستے تھے، ایک الیکشن اصلاحات کر کے انتخابات کی جانب جائیں اور دوسرا راستہ سخت فیصلے کریں اور ڈوبتی معیشت کو سنبھالیں, ہم نے فیصلہ کیا یہ وقت سیاست بچانے کا نہیں ہے، پہلا فیصلہ سیاسی ساکھ کو بچا کر عوام کے لیے مشکل پیدا کرتے لیکن ضمیر کی آواز کہتی ہے یہ عوام اور اپنے ساتھ زیادتی ہو گی اور تاریخ معاف نہیں کرے گی،  یہ وقت سیاست کو نہیں ریاست کو بچانے کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کیے گئے اعلانات کے مطابق آئی ایم ایف شرائط منظور ہوچکیں اور اب اگر آئی ایم ایف سے مزید شرائط نہ آئیں تو امید ہے معاہدہ ہو جائے گا, یقین ہے مشکل وقت سے نکل آئیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بڑی صنعتوں پر سپر  ٹیکس لگانے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ عام آدمی کو ٹیکس سےبچانے کے لیے صنعتوں پرٹیکس لگایا ہے، سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری،آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبل، کیمیکل، بیوریجز  اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پرایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر3 فیصد  اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جو غربت میں کمی کا ٹیکس ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2 ہزار ارب روپے ٹیکس غائب ہو جاتا ہے اور سپر ٹیکس کا مقصد غربت میں کمی کرنا ہے, میرا وعدہ ہے راتوں کو جاگوں گا اتحادیوں سے مل کر پالیسی بناؤں گا جبکہ ٹیکس کلیکشن کے لیے ٹیمیں بن چکی ہیں اور آئینی اداروں سے مدد لیں گے۔