ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ریلوے انتظامیہ کی نااہلی، ٹرینوں کا پٹڑی سے اترنا معمول بن گیا

ریلوے انتظامیہ کی نااہلی، ٹرینوں کا پٹڑی سے اترنا معمول بن گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : ریلوے انتظامیہ مسافروں کو محفوظ سفری سہولت دینے میں ناکام نظر آرہی ہے، سکھر کے بعد اب لاہور ڈویژن میں بھی ٹرینوں کا پٹڑی سے اترنا معمول بن  گیا ہے۔ 

پاکستان ریلویز کو اپ گریڈ کا منصوبہ مکمل ہی نہ ہو سکا  جس کی وجہ سے آئے روز مسافر اور مال بردار ٹرینیں ڈی ریل ہونے لگی  ہیں، سکھر کے بعد اب لاہور ڈویژن میں بھی ٹرینوں کا پٹڑی سے اترنا معمول بن  گیا ہے، جو  ریلوے کے شعبہ مکینیکل اور سول کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

لاہور ڈویژن میں ایک ماہ کے دوران 4 ٹرینیں پٹڑی سے اتر گئیں۔ ریلوے افسران سیٹوں کے مزے لوٹنے میں  مصروف ہیں جب کہ مسافر خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور ریلوے ٹریک خستہ حالی کا شکار ہے، انتظامی نااہلی اور باقاعدہ انسپکشن نہ ہونے کے باعث ٹرین حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ 31جنوری کو شاہدرہ پل پر شالیمار ایکسپریس کو حادثہ پیش آیا، جس میں ٹرین کی 3 بوگیاں شاہدرہ پل سے ڈی ریل ہوئیں۔ اسی طرح 18فروری کو مغلپورہ کینال برج پر مال گاڑی کی ایک کوچ پٹڑی سے اتری۔

علاوہ ازیں 20فروری کو بھی کوٹ رادھا کشن میں مال گاڑی کو حادثہ پیش آیا اور 2 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ بعد ازاں 22فروری کو اوکاڑہ میں مال گاڑی کو افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس میں 5سے زائد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور مال گاڑی کا انجن ٹریک سے ملحقہ مین روڈ پر پہنچ گیا۔