ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پتنگ بازی کا شوق رکھنے والے شہری خبردار، سزائیں سخت کردی گئیں

پتنگ بازی کا شوق رکھنے والے شہری خبردار، سزائیں سخت کردی گئیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : پتنگ بازی کا شوق رکھنے والے شہری خبردار ہو جائیں کیونکہ پنجاب اسمبلی نے ایسا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت دھاتی تار، نائلون ڈور اور کیمیکل و شیشہ لگی مانجھے سے بنی ڈور پر پابندی ہوگی، بغیر اجازت پتنگ اڑانے، بنانے، ذخیرہ کرنے اور فروخت پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔

پنجاب اسمبلی نے پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025 کثرت رائے سے منظور کرلیا، ساتھ ہی پتنگ بازی کو انسانی جان اور املاک کے تحفظ کیلیے ریگولیٹ کرنے کا قانون بھی منظور کیا۔ صوبائی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کے متن کے مطابق دھاتی تار، نائلون ڈور اور کیمیکل و شیشہ لگی مانجھے سے بنی ڈور پر پابندی ہوگی، بغیر اجازت پتنگ اڑانے، بنانے، ذخیرہ کرنے اور فروخت پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ حکومتی قوانین کے خلاف پتنگ بازی پر 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں، پتنگ اور ممنوعہ ڈور کی تیاری و فروخت پر 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد ہوگا، بچوں کی جانب سے خلاف ورزی پر جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے تحت کارروائی ہوگی۔ 

بل کے متن کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے پر والدین یا سرپرست سے بطور واجب الادا رقم وصولی کا اختیار ہوگا، قانون کے تحت جرم ناقابل ضمانت اور قابل گرفتاری قرار دیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر کو مخصوص دنوں اور مقامات پر مشروط پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اختیار ہوگا، اجازت یافتہ پتنگ بازی کے دوران موٹرسائیکل سواروں کیلیے حفاظتی اقدامات لازمی قرار دیے گئے ہیں، اجازت یافتہ پتنگ اور سوتی ڈور کی تیاری و فروخت کیلیے رجسٹریشن لازمی ہوگی، بغیر رجسٹریشن پتنگ یا اجازت یافتہ سامان فروخت کرنے پر ایک سے 5 سال قید یا جرمانہ ہوگا۔ ’پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کی اجازت ہوگی، بل کے تحت پولیس کو تلاشی اور سامان ضبط کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ سب انسپکٹر یا اس سے اوپر رینک کا افسر کارروائی کا مجاز ہوگا، حکومت دیگر اداروں کو بھی گرفتاری اور تلاشی کے اختیارات دے سکے گی۔‘

منظور کیے گئے قانون کے تحت پتنگ بازی ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن اور منسوخی کا باقاعدہ طریقہ کار طے ہوگا جبکہ خلاف ورزی پر رجسٹریشن منسوخ کرنے کا اختیار ڈپٹی کمشنر کو حاصل ہوگا، قانون کے تحت اپیل کا حق مجسٹریٹ، ڈپٹی کمشنر اور کمشنر سطح پر ہوگا۔

قانون میں خلاف ورزی کی اطلاع دینے والے کو 5 ہزار روپے تک انعام دینے کی شق بھی شامل کی گئی ہے، نیا قانون سابقہ پنجاب پروہی بیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2001 کو منسوخ کرتا ہے۔