(ویب ڈیسک )ایران جنگ کے بعد تیل کی بلند قیمتوں، حکومتی سبسڈی اور نسبتاً سستی الیکٹرک گاڑیوں کی دستیابی نے یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کو تیز کردیا ہے، جولائی میں 16 یورپی مارکیٹوں میں EV رجسٹریشنز میں سالانہ بنیادوں پر 13 فیصد اضافہ ہوا۔
رائٹرز کے مطابق جولائی کے دوران ان 16 مارکیٹوں میں نئی گاڑیوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 25.7 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ مارکیٹیں یورپی یونین اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن کی گاڑیوں کی مجموعی فروخت کے 90 فیصد سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتی ہیں۔
یورپی یونین میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 40.5 فیصد بڑھ کر 12 لاکھ سے تجاوز کرگئی، جبکہ نئی گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں EVs کا حصہ 20.7 فیصد رہا۔
فرانس میں صورتحال مزید نمایاں رہی، جہاں جولائی میں نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ ریکارڈ 35 فیصد تک پہنچ گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں یہ شرح صرف 17 فیصد تھی۔ کم آمدنی والے صارفین کے لیے حکومتی ’’سوشل لیزنگ‘‘ پروگرام شروع ہونے سے بھی EVs کی طلب میں اضافہ ہوا۔
برطانیہ میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رینالٹ کے مطابق جولائی میں اس کے نصف سے زیادہ نئے آرڈرز الیکٹرک گاڑیوں کے تھے، جبکہ کمپنی کی Renault 5 گزشتہ ماہ برطانیہ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی الیکٹرک کار رہی۔
تیل کی بلند قیمتیں صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کرنے کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہیں۔ برطانیہ کی ایک صارف کے مطابق ان کی نئی الیکٹرک Renault Megane کو گھر پر چارج کرنے کی لاگت تقریباً ایک پاؤنڈ ہے، جبکہ ان کی سابقہ پیٹرول گاڑی میں اتنی ہی ضرورت کے لیے تقریباً 60 پاؤنڈ خرچ ہوتے تھے۔
آن لائن مارکیٹ پلیس OLX کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد فرانس، رومانیہ، پرتگال اور پولینڈ میں الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق صارفین کی پوچھ گچھ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
تاہم یورپ میں EVs کی تیزی کے باوجود ماہرین کے مطابق عوامی چارجنگ اسٹیشنز کی کمی اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے، خصوصاً ان صارفین کے لیے جو اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں اور گھر پر گاڑی چارج کرنے کی سہولت نہیں رکھتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں کم بھی ہوجائیں تو زیادہ سستی الیکٹرک گاڑیوں اور حکومتی مراعات کی وجہ سے یورپ میں برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔