ویب ڈیسک:امریکا نے گرین کارڈ حاصل کرنے کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے عارضی ویزا پر موجود غیر ملکیوں کیلئے نئی شرائط متعارف کرا دی ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت اب بیشتر افراد کو مستقل رہائش کی درخواست دینے سے قبل اپنے آبائی ممالک واپس جانا ہوگا۔
امریکی محکمہ شہریت و ہجرت کی جانب سے جاری پالیسی میمو میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں موجود افراد اب براہِ راست گرین کارڈ کیلئے درخواست نہیں دے سکیں گے، بلکہ انہیں اپنے ملک میں موجود امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے سے امیگریشن پراسیس مکمل کرنا ہوگا۔
حکام کے مطابق ہر درخواست کا انفرادی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا اور صرف غیر معمولی حالات میں کسی فرد کو امریکا کے اندر رہتے ہوئے رعایت یا استثنا دیا جا سکے گا۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امیگریشن نظام کو اصل قانونی ڈھانچے کے مطابق چلانا اور موجود خامیوں یا ممکنہ غلط استعمال کو روکنا ہے۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی سے ادارہ اپنے وسائل بہتر انداز میں استعمال کر سکے گا اور زیر التوا کیسز جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔
نئی ہدایات کا اطلاق ان افراد پر ہوگا جو امریکا میں طلبہ ویزا، ورک ویزا، سیاحتی ویزا یا دیگر عارضی حیثیت کے تحت موجود ہیں اور مستقبل میں گرین کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قانونی حیثیت رکھنے والے افراد امریکا میں رہتے ہوئے ہی اپنی مستقل رہائش کی درخواست جمع کرا سکتے تھے، جن میں امریکی شہریوں کے شریک حیات، طلبہ، ملازمین اور دیگر ویزا ہولڈرز شامل تھے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے نئی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس فیصلے سے انسانی اسمگلنگ، گھریلو تشدد یا جنگی حالات سے متاثرہ افراد کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں، جبکہ بچوں اور خاندانوں کی علیحدگی کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔
امیگریشن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کئی ممالک میں امریکی سفارت خانوں میں ویزا پراسیسنگ انتہائی سست ہے، بعض مقامات پر انٹرویو کیلئے مہینوں بلکہ ایک سال تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے ہزاروں افراد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نئی پالیسی کا اطلاق پہلے سے زیر التوا درخواستوں پر بھی ہوگا یا نہیں، جس کے باعث متاثرہ افراد میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
تاہم امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ قومی یا معاشی مفاد سے جڑے بعض کیسز میں خصوصی رعایت دی جا سکتی ہے اور ایسے افراد کو امریکا میں رہتے ہوئے درخواست دینے کی اجازت مل سکتی ہے۔