سٹی42: امریکہ میں ایک وفاقی جج نے ہارورڈ یونی ورسٹی میں غیر ملکی سٹوڈنٹس پر پابندی لگانے کے ٹرمپ انتظامیہ کےحکمنامے کو بلاک دیا۔
ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے ہارورڈ یونیورسٹی کے آئیوی لیگ سکول کی بین الاقوامی سٹوڈنٹس کی انرلمنٹ کے اختیار کو منسوخ کرتے ہوئے کل یہ حکم دیا تھا کہ ہارورڈ یونی ورسٹی کے ساتھ منسلک ہزاروں موجودہ سٹوڈنٹس کو اپنا نان امیگرنٹ سٹیٹس برقرار رکھنے کے لئے فوری طور پر دوسرے تعلیمی اداروں میں منتقل ہونا ہوگا، ایسا نہ کیا تو انہیں ملک چھوڑنا ہوگا۔
آج جمعہ کے روز ایک وفاقی جج نے ہارورڈ یونیورسٹی کی انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کو خود داخلہ دینے کی اہلیت عطا کرنے والے سرٹیفیکیٹ کو منسوخ کرنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے حکم کو بلاک کر دیا ہے۔
آج فیڈرل جج کا جاری کردہ حکم امتناعی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام میں ہارورڈ کے سرٹیفیکیشن کو واپس لینے سے روکتا ہے، جو ہارورڈ یونی ورسٹی کو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ویزا کے ساتھ بین الاقوامی طلباء کی میزبانی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
امریکا کی سیکرٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم نے یونیورسٹی کو خط میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اقدام ہوم لینڈ سکیورٹی کی یونیورسٹی میں جاری تفتیش کے لیے کیا جا رہا ہے۔
کل کیا ہوا تھا
امریکہ کے ہوم لینڈ سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے ہارورڈ یونی ورسٹی کو خط بھیج کر آگاہ کیا تھا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ اور وزیٹر ایکسچینج پروگرام سرٹیفیکیشن ختم ہوگئی ہے، ہارورڈ یونیورسٹی غیرملکی طلبا کو داخلہ نہیں دے سکتی اور موجودہ زیر تعلیم غیرملکی طلبا کو ٹرانسفر کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ہارورڈ یونیورسٹی نے اس اقدام کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا اور کہا تھا کہ اس سے ادارے اور پورے ملک کو ’سنگین نقصان‘ پہنچے گا۔
اسی دوران
ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی ٹرمپ انتظامیہ کے آئیوی لیگ سکول کو غیر ملکی طلباء کے داخلے سے روکنے کے فیصلے کو چیلنج کر رہی ہے، اور اسے وائٹ ہاؤس کے سیاسی مطالبات سے انکار کرنے پر غیر آئینی انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے۔