امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیر ملکی سٹوڈنٹس کو اپنے ہاں داخلہ دینے کے اختیار اور ان کی انرولمنٹ خود کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا۔ اب ہارورڈ یونی ورسٹی اپنے کیمپس میں غیر ملکی طلباء کو قبول نہیں کر سکے گی، بلکہ ہارورڈ میں اس وقت زیر تعلیم غیر ملکی سٹوڈنٹس کو نان امیگرنٹ /"غیر تارک وطن" کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے کسی دوسری یونیورسٹی میں منتقل" ہونا پڑے گا۔
ہارورڈ یونی ورسٹی میں پاکستان کے بھی سٹوڈنٹ تعلیمی ویزا پر زیر تعلیم ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکمنامہ کے بعد انہین بھی دوسری یونی ورسٹیوں میں داخلہ یقینی بنانا ہو گا ورنہ ان کے امریکہ میں رہنے میں سخت دشواری پیش آئے گی۔
ہارورڈ یونی ورسٹی کو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں سر فہرست مانا جاتا ہے۔ پاکستان کے نابغہ سٹیٹسمین زوالفقار علی بھٹو شہید اور ان کی دو مرتبہ وزیراعظم بننے والی صاحبزادہ شہید جمہوریت محترمہ بینظیر بھٹو بھی ہارورڈ یونی ورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یونیورسٹی کی جانب سے ٹرمپ کے مطالبات کو ماننے سے انکار کا جواب ہے۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کی انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کی انرولمنٹ کے اختیار کو بلاک کر دیا ہے۔
اس اقدام کے بعد یہ ٹاپ رینکنگ امریکی یونیورسٹی اپنے ہاں تعلیم دینے کے لئے انترنیشنل سٹوڈنٹس کا انتخاب خود نہیں کر سکتی۔ اب تک کے طریقہ کارکے مطابق انٹرنیشنل سٹوڈنٹس ہارورڈ(اور دیگر بہت سے ترقی یافتہ ملکوں کی اچھی یونیورسٹیوں کو) براہ راست داخلہ کی درخواست دیتے ہیں، یونی ورسٹی اپنے معیار کے مطابق سٹوڈنٹس کا انتخاب کرتی ہے اور انہیں سیلیکشن کے مراحل سے گزار کر داخلہ دے دیتی ہے۔ یونیورسٹی میں داخلہ ملنے پر انٹرنیشنل سٹوڈنٹ اس یونی ورسٹی کے ملک کے سفارتخانہ کو ویزا کیلئے اپلائی کرتے ہیں جو تقریباً تمام کیسز میں مل جاتا ہے۔
جمعرات کو ایکس پر ایک پوسٹ میں، ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ "ہارورڈ کو اپنے کیمپس میں تشدد، یہودیوں کے خلاف دشمنی کو فروغ دینے اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے جوابدہ ٹھہرا رہی ہے"۔
انہوں نے کہا، "یونیورسٹیوں کے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ وہ غیر ملکی طالب علموں کا اندراج کریں اور ان کی اعلیٰ ٹیوشن ادائیگیوں سے مستفید ہوں تاکہ ان کے اربوں ڈالر کے انڈوومنٹس میں(مزید رقم آنے سے ان یونی ورسٹیوں کی) مدد ہوسکے۔" "ہارورڈ کے پاس صحیح کام کرنے کے کافی مواقع تھے۔ اس نے انکار کر دیا۔"
یونیورسٹی کی انتظامیہ کو لکھے گئے خط میں، کرسٹی نوم نے کہا کہ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ ایکسچینج وزیٹر پروگرام کے سرٹیفیکیٹ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کی نگرانی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کرتی ہے، اس ادارہ کو کرسٹی نوم کنٹرول کرتی ہے۔
خط میں کہا گیا کہ اس اقدام کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف ہارورڈ اپنے کیمپس میں غیر ملکی طلباء کو قبول نہیں کر سکے گا، بلکہ موجودہ طلباء کو نان امیگرنٹ /"غیر تارک وطن" کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے کسی دوسری یونیورسٹی میں منتقل" ہونا پڑے گا۔

ہارورڈ نے فوری طور پر اس اقدام پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، جس کی سب سے پہلے نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی تھی۔
یہ کارروائی یونیورسٹی اور امریکہ کی حکومت کے درمیان اختلاف کی خلیج کے مزید بڑھنے کی نمائندگی کرتی ہے، جس نے اپنے تنوع کے پروگراموں اور حماس کے حامی مظاہروں کے ردعمل، اور ٹرمپ انتظامیہ سے متعلق مطالبات کی فہرست سے اتفاق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
انتظامیہ نے وفاقی فنڈنگ اور گرانٹس میں کٹوتیوں کے تین دوروں کے ساتھ جواب دیا ہے۔ ہارورڈ اس وقت ایک مقدمہ چلا رہا ہے جس میں انتظامیہ پر اپنے اقدامات میں امریکی آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔