سٹی42: کراچی یونیورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی فیسوں میں مسلسل تیسرے اضافے سے طلبا پریشان ہیں۔
جامعہ کراچی میں انتظامیہ نے ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی فیس میں مزید 10 فیصد اضافہ کرتے ہوئے تعلیمی اخراجات طلبہ کی پہنچ سے دور کر دیے ہیں۔ پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کی فیسوں میں مسلسل تیسرے سال بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
2023 میں فی سمسٹر ایم فل کی فیس 38,500 روپے جبکہ پی ایچ ڈی کی فیس 44,000 روپے تھی۔گزشتہ سال یہ فیسیں دگنی سے بھی زیادہ ہو کر ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر گئیں۔اب ایک بار پھر ایم فل کی فی سمسٹر فیس بڑھا کر 1 لاکھ 32 ہزار روپے کر دی گئی ہے، جبکہ پی ایچ ڈی کی فیس 1 لاکھ 65 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔
یونی ورسٹی کی انتظامیہ ان بے تحاشا اضافوں کا کوئی جواز بھی نہیں بتاتی، صرف سٹوڈنٹس کو حکم صادر کر دیا جاتا ہے کہ اب نئی فیسیں ادا کیا کریں۔
فیسوں میں اس ہولناک اور سراسر بلاجواز اضافے پر سٹوڈنٹس اور ان کے والدین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم پہلے ہی ناقابل برداشت حد تک مہنگی ہو چکی ہے۔ اور اس مزید اضافے سے اعلیٰ تعلیم غریب اور متوسط طبقے کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ رسائی ہو چکی ہے۔ کوئی ایک بھی متوسط گھر ایسا نہیں جہاں ماں باپ کسی ایک ہی بچے کو ایم فل پڑھانے کے لئے اتنی کثیر رقم مسلسل بچت کر کے مہیا کر سکیں۔
وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی نے فیس بڑھانے کے بہیمانہ عمل کی وجہ یہ بتائی کہ یونی ورسٹی کے سنڈی کیٹ نے ہر سال دس فیصد اضافہ کی منطوری دے رکھی ہے۔ ڈاکٹر خالد عرفی نے کہا، ہر سال 10 فیصد فیس بڑھانے کی منظوری پہلے ہی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ سے دی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق فیسوں میں یہ اضافہ "مارکیٹ ویلیو” اور سرکاری فنڈنگ میں کمی کے باعث ناگزیر ہو گیا ہے۔
محدود بجٹ اور بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات کے پیش نظر انتظامیہ کو یہ اقدام اٹھانا پڑا، فیسوں میں نرمی یا اسکالرشپ کے لیے کوئی متبادل پالیسی بھی نہیں لائی گئی۔