سٹی42: پی آئی اے کے نئے منتظم نے ادارہ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے بولی کامیاب ہونے کے بعد پی آئی اے کو آگے لے جانے کے لئے بڑے منصوبے کا اعلان کر دیا۔ منصوبے کے خدوخال بھی سامنے آ گئے۔
عارف حبیب کنسورشیم کے سربراہ ممتاز انویسٹر اور ماہر معیشت عارف حبیب نے اعلان کیا ہے کہ وo پی آئی اے کے طیاروں کی تعداد 38 سے بڑھا کر 65 کریں گے۔
اسلام آباد میں پاکستان ائری لائن کی نیلامی میں تیسرے مرحلہ میں اپنی بولی سب سے بڑی مالیت کی قرار دیئے جانے کے بعد عارف حبیب نے کہا، پی آئی اے کی نجکاری شفاف عمل سے ہو جانے سے آج پاکستان کی جیت ہوئی ہے، حکومت نے بہت شفاف انداز میں پی آئی اے کی نجکاری کی ہے۔
عارف حبیب نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا پہلا غیر سرکاری منتظم بننے کے بعد پی آئی اے میں انقلاب لانے کے اپنے منصوبے کے خدوخال کی سرسری جھلک پاکستانی عوام کے بھی سامنے رکھ دی۔ عارف حبیب نے بتایا کہ ہم پاکستان ایئرلائن کے طیاروں کی تعداد 38 سے بڑھا کر 65 تک لے کر جائیں گے۔
نج کاری کمیشن کے آج سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پی آئی اے کے آپریشنل طیاروں کی تعداد صرف 18 رہ گئی ہے۔ کچھ طیارے مرمت طلب ہونے کی وجہ سے گراؤنڈ ہیں۔ آج عارف حبیب نے جو ویژن بتایا ہے، اس کے مطابق وہ پی آے اے کر اڑنے والے طیاروں کی تعداد میں مزید دو گنا تعداد کا اضافہ کرنے کا منسوبہ رکھتے ہیں۔
اسلام آباد میں پی آئی اے کی بولی میں کامیابی کے بعد عارف حبیب نے میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بہت شفاف انداز میں پی آئی اے کی نجکاری کی ہے اور پی آئی اے کی بولی سے پاکستانی معیشت کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آ ج پاکستان کی جیت ہوئی ہے، بیرونی سرمایہ کار پاکستان کی طرف راغب ہوں گے اور ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
عارف حبیب کاروبار تو کرتے ہی ہین، اس کے ساتھ وہ پاکستان کی معیشت کے اچھے حکیم بھی ہیں، انہوں نے پی آئی اے کے گولڈن ایرا کو یاد کرتے ہوئے کہا، پی آئی اے نے اچھے دن دیکھے ہیں، ہم وہ دن واپس لائین گے، ہم پہلے مرحلے میں آپریشنل طیاروں کی تعداد 38 کریں گے اور پھر تعداد 65 تک لے کر جائیں گے۔
عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے عملے کو اعتماد دیں گے اور مزید لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
عارف حبیب کے کنسورشیم نے نج کاری کمیشن کی منعقد کردہ کھلی بولی میں تمام شریک گروپوں سے زیادہ بولی دی اور تیسرے مرحلہ کے اختتام پر ان کی بولی سب سے زیادہ رہنے پر کسی نے مزید بولی نہیں دی تو قومی ایئرلائن 135 ارب میں فروخت ہونے کا اعلان ہو گیا اور نج کاری کمیشن کی جانب سے محمد علی نے اعلان کیا کہ عارف حبیب کنسورشیم نے 75 فیصد شیئرز خرید لیے ہیں۔
لکی سیمنٹ کے مالکان کے لکی کنسورشیم نے تیسرے مرحلہ میں 134ارب روپے کی بولی لگائی تھی تاہم عارف حبیب نے اس بولی سے برھ کر ایک ارب روپے بڑھا کر 135 ارب روپے کی بولی دے دی۔ اس کے بعد لکی والوں نے مزید بولی نہین دی۔ پی آئی اے کی خریداری کا حق عارف حبیب کنسورشیم کو مل گیا۔
پی آئی اے کی خریداری کے لیے آج دی جانے والی سب سے زیادہ بولی کی اب نجکاری کمیشن اور وفاقی کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے سامنے رکھی جائے گی۔ ان فورمز پر کی منظوری کے بعد یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا جو اس خریداری کے عمل پر حتمی فیصلہ دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ وفاقی کابینہ سے منظوری ملنے کی صورت میں پی آئی اے کے انتظام کو عارف حبیب کنسورشئیم کے حوالے کردیا جائے گا۔
پی آئی اے کے خریدار کی جانب سے سرکار کے ساتھ طے کردہ بینچ مارک پورے نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کے سوال پر مشیر نجکاری محمد علی نے کہا ہہ ہمارے پاس دوسرا بڑا بڈر تو موجود ہے۔