سٹی 42: پاکستان کے دشمن عناصر اب واضح مقابلے کے بجائے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کے لیے پراکسیز کو استعمال کر رہے ہیں اور غیر واضح حربے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ بات : چیف آف آرمی اسٹاف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے دوران کے دوران وار کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء نے قومی سلامتی کے چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر اپنی اکیڈمِک رائے پیش کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں عالمی، علاقائی اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے ماحول پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو روایتی، غیر روایتی، انٹیلی جنس، سائبر، انفارمیشن، عسکری اور اقتصادی شعبوں میں وسیع اور مستقل چیلنج درپیش ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مستقبل کے رہنماؤں کو تیار رہنے اور کثیر الجہتی ذہنی چیلنجز کو بروقت پہچاننے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے فیصلہ سازی میں وضاحت، ذہنی مضبوطی اور لچک کو آج کے پیچیدہ، متنازعہ سکیورٹی ماحول میں اہم قرار دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی (این ڈی یو ) کے کردار کو سراہا، جو سٹریٹجک سوچ رکھنے والے رہنماؤں کی تربیت کے لئے وطن عزیز میں کلیدی ادارہ ہے۔
انہوں نے شرکاء کی تجزیات کرنے کی صلاحیتوں کی تعریف کی اور انہیں دیانت، نظم و ضبط اور بے لوث خدمت کے اصولوں پر قائم رہنے کی تلقین کی۔

چیف آف آرمی سٹاف و جوائنٹ چیفس آف سٹاف جب یونیورسٹی پہنچے تو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کا پرتپاک استقبال کیا۔