ویب ڈیسک: ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے تحت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ای سی سی نے منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور اس عمل میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی اور ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ میں سپیکٹرم کا کردار انتہائی اہم ہے جبکہ جن سپیکٹرم کی نیلامی نہیں ہو پاتی وہ ملک کے لیے مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی سے نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ سرمایہ کاری اور جدید خدمات کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی نے نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس (نیرا) کی خدمات حاصل کیں، جس نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے سپیکٹرم نیلامی کے حوالے سے تفصیلی تجزیہ کیا۔ نیرا نے ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ماضی میں ہونے والی سپیکٹرم نیلامیوں کا جائزہ لے کر قیمت، ادائیگی کی شرائط اور نیلامی کے ڈیزائن سے متعلق سفارشات مرتب کیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق سپیکٹرم نیلامی کے تمام مراحل میں بین الاقوامی معیارات کو مدنظر رکھا گیا اور ان سفارشات پر غور کے بعد پاکستان کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ای سی سی نے ان کی منظوری دے دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی سے ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ، جدید ڈیجیٹل سروسز اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے، جو ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔