کاوش میمن: بڑھتی مہنگائی سے پریشان تنخواہ دار اور مزدور طبقے نے حکومت سے آئندہ بجٹ میں ریلیف دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ تنخواہوں میں گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
بڑھتی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے تنخواہ دار اور مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے،جس کے بعد شہریوں نے حکومت سے آئندہ بجٹ میں فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کر دیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ماہانہ تنخواہ میں گھر کا نظام چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے جبکہ ہر سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ تو کیا جاتا ہے، لیکن نجی ملازمین اور مزدور طبقے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم اجرت 42 ہزار روپے سے بڑھائی جائے تاکہ مزدور طبقے کو کچھ ریلیف مل سکے اور نجی اداروں کو بھی سرکاری طور پر مقرر کردہ تنخواہوں پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے۔
شہریوں کے مطابق بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے متوسط طبقے کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں اور موجودہ معاشی صورتحال میں عام آدمی کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تنخواہ دار طبقے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں مزدوروں، نجی ملازمین اور عام شہریوں کیلئے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔