طاہر جودھیانہ: ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کے باعث زیرِ زمین نمی کی سطح شدید متاثر ہونے لگی ہے، جس پر محکمہ موسمیات نے صحرائے چولستان سمیت سندھ اور بلوچستان کے متعدد اضلاع کو خشک سالی سے متاثرہ ہائی رسک علاقے قرار دے دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کم بارشوں اور بڑھتے درجہ حرارت کے باعث زمین کی نمی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے زرعی سرگرمیوں، پانی کی دستیابی اور لائیو سٹاک پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے اضلاع چاغی، واشک اور گوادر کو خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ سندھ کے اضلاع تھرپارکر اور عمرکوٹ کو بھی شدید متاثرہ اور انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح صحرائے چولستان اور جنوبی پنجاب کے وسیع صحرائی علاقے بھی خشک سالی کے شدید خطرے کی زد میں آ گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اوسط درجہ حرارت معمول کے موسمیاتی انڈیکس سے 2 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی قلت کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور مستقبل میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر چولستان اور تھر کے صحرائی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی ہنگامی سپلائی لائن فعال کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مزید برآں لائیو سٹاک کے تحفظ کیلئے ہائی رسک علاقوں میں چارے اور پانی کے خصوصی بینک قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مویشیوں کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔