ویب ڈیسک:نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اس خطے میں بحران کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے، اس بات سے چینی رہنماؤں نے بھی اتفاق کیا ہے۔
دورہ چین کے بعد دفتر خارجہ میں صحافیوں کو بریفینگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین کا یہ دورہ عام دورہ نہیں تھا، یہ دورہ چین کے ہم منصب کی دعوت پر ہوا تھا، منگل کے روز چین میں چینی وزارء سے ملاقاتیں ہوئیں،ان کا کہنا تھا کہ دورہ چین کے دوران افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی بھی بیجنگ میں موجود تھے، پاکستان کی جانب سے چینی وزیر خارجہ اور افغان قائم مقام وزیر خارجہ کی اہم ملاقات ہوئی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بیجنگ میں دیگر وزراء سے بھی خوشگوار ماحول میں میٹنگ کا انعقاد ہوا، سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں پی ایم ایل این کی نمائندگی ہوگی، چین کے دورہ کے دوران بھارت کی جانب سے جارحیت کی وجہ سے شہید ہونے والوں کی تعزیت کی،وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کے حوالے سے کلئیر موقف ہے، ہم دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، چین میں بھی میٹنگ کے دوران دہشت گردی کے اوپر بات چیت کی،ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ہوا ہے تینوں ممالک ملکر دہشت گردی جیسے لعنت سے نمٹنے کیلئے پوری کوشش کریں گے، اس خطے میں بحران کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ہے، اس بات سے چینی راہنماوں نے بھی اتفاق کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت الزام تراشیاں کر رہا ہے، 23 برس پہلے بھی بھارت یہی کہتا تھا کہ مریدکے اور بہاولپور میں کالعدم جماعتیں موجود ہیں، ہمیں بھارت کی جانب سے حملے کی کوئی باقائدہ اطلاع نہیں تھی، 6 مئی کو وزارت اطلاعات نے میڈیا کو مریدکے کا دورہ کرایا،بھارت نے 24 جگہوں پر 6 پے لووڈ پھینکے، ماضی میں بھارت ان جگہوں پر الزامات عائد کرتا رہا ہے، اگر کچھ ہوتا تو ہم میڈیا کو ان جگہوں کا دورہ نہ کراتے، ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔