سٹی 42: 22 سے 24 جولائی کے دوران شدید مون سون بارشوں اور مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث دریاؤں، ندی نالوں اور شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری ہوگیا۔
این ڈی ایم اے الرٹ کے مطابق گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، میں تیز اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کے باعث اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔آزاد جموں و کشمیر میں تیز اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کے باعث اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔ بلوچستان اور پنجاب میں تیز اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کے باعث اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔
پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں سیلاب کا خدشہ ہے۔گلگت بلتستان میں غذر، ہنزہ، نگر، گلگت، دیامر میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔
گانچھے، شگر، استور، کھرمنگ اور روندو کے دریاؤں، آبی گزرگاہوں اور مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے ۔
خیبرپختونخوا میں چترال، مالاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آبادمیں تیز بہاؤ اور پہاڑی برساتی ریلے متوقع ہیں ۔ ہری پور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، پشاور، خیبر، کرم میں تیز بہاؤ اور پہاڑی برساتی ریلے متوقع ہیں ۔ اورکزئی، کوہاٹ، بنوں، کرک، ہنگو، شمالی و جنوبی وزیرستان، میں تیز بہاؤ اور پہاڑی برساتی ریلے متوقع ہیں ۔
ٹانک، ڈی آئی خان، باجوڑ، مہمند اور لکی مروت کے ندی نالے میں تیز بہاؤ اور پہاڑی برساتی ریلے متوقع ہیں ۔ آزاد جموں و کشمیر میں باغ، حویلی، پونچھ، سدھنوتی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور کے دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ برقرار ہیں ۔
پنجاب میں ڈی جی خان، راجن پور کے پہاڑی برساتی نالوں اور میانوالی (عیسیٰ خیل) میں دریائے کرم میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے ۔
بلوچستان میں ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، زیارت، دکی، بارکھان، ہرنائی، سبی، کچھی، خضدار، لہڑی اور جھل مگسی کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے ۔شہری سیلاب کے خطرے کے پیش نظر راولپنڈی، جہلم، فیصل آباد، میانوالی میں احتیاط برتی جائے۔
خوشاب، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان کے نشیبی علاقوں میں احتیاط برتی جائے۔دریائے چناب مرالہ کے مقام پر اونچے درجے جبکہ دریائے جہلم منگلا کے بالائی علاقوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔جہلم اور چناب بیسن کے نالوں ڈورا، ڈوٹا، ڈوارہ، بھمبر، میں بھی پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ہلسی، ایک اور پلکھو جبکہ راوی بیسن کے بین، بسنتر، ڈیگ اور سکّی نالوں میں بھی پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔دریائے راوی بلوکی کے مقام پر آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران کم درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
دریائے سوات، پنجکوڑہ، چترال، کابل اور اس کے معاون دریاؤں میں بھی پانی کی سطح بلند ہونے کی توقع ہے۔عوام کو حساس مقامات اور پہاڑی علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ۔ این ڈی ایم اے کی متعلقہ اداروں کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، ہنگامی ٹیموں کی تیاری اور ممکنہ بند شاہراہوں کی فوری بحالی کے انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کردی ۔