ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ؛ پنجاب حکومت کی بسنت منانے کی اجازت والی بلڈنگز کی تفصیلات طلب

لاہور ہائیکورٹ؛ پنجاب حکومت کی بسنت منانے کی اجازت والی بلڈنگز کی تفصیلات طلب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ  نے پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت  منانے کی اجازت والی بلڈنگز کی تفصیلات طلب کرلیں , عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری ہوم کو محفوظ بسنت منانے کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی مفصل رپورٹ سمیت طلب کرلیا ۔ 

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت  جسٹس ملک محمد اویس خالد نے حکومت سے ان عمارتوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں جہاں بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے۔ جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ریمارکس دیے کہ خستہ حال عمارتوں کی چھتوں پر کسی صورت پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سے انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پچیس سال بعد بسنت منائی جا رہی ہے، اس لیے ایسے مؤثر اور قابلِ عمل حفاظتی اقدامات ہونا ضروری ہیں کہ یہ تہوار محفوظ انداز میں منایا جا سکے اور مستقبل میں بھی بسنت کی روایت برقرار رہے۔

 جسٹس ملک محمد اویس خالد نے مزید ریمارکس دئیے کہ بسنت لاہور کی پہچان ہے، تاہم اس کی آڑ میں کسی قسم کا جانی نقصان قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

سماعت کے دوران عدالت نے ہدایت کی کہ محفوظ بسنت کے حوالے سے کیے گئے تمام اقدامات کی مفصل رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کی جائے اور شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے بسنت کے موقع پر ایمرجنسی کال نمبر بھی فراہم کیا جائے تاکہ عوام فوری طور پر اپنی شکایات درج کرا سکیں۔ عدالت نے سپیشل سیکرٹری ہوم کو بسنت کے لیے کیے گئے اقدامات کی جامع رپورٹ سمیت 26 جنوری کو طلب کر لیا، جبکہ درخواست گزار وکیل کو بھی فریقین کے جوابات پر جواب الجواب جمع کروانے کی ہدایت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل عبدالرؤف سمیت دیگر سرکاری افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور دیگر متعلقہ محکموں کی جانب سے رپورٹس عدالت میں پیش کیں۔ عدالت کے استفسار پر پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری سمیت تمام فریقین کے جوابات جمع ہو چکے ہیں۔جسٹس ملک محمد اویس خالد نے سپیشل سیکرٹری ہوم سے استفسار کیا کہ بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے، کتنی میٹنگز ہوئیں اور ان میں کیا فیصلے کیے گئے؟ جس پر سپیشل سیکرٹری ہوم نے جواب دیا کہ سینئر منسٹر سمیت اعلیٰ حکومتی افسران متعدد اجلاس کر چکے ہیں اور ایکٹ کے رولز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ محفوظ بسنت کے لیے کیے گئے اقدامات پر عمل درآمد کیسے ہوگا اور عام شہری کو ان اقدامات کا علم کیسے ہوگا؟ جس پر سپیشل سیکرٹری ہوم نے بتایا کہ میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ممنوعہ ڈور، غیر رجسٹرڈ دکانوں پر پتنگ اور ڈور کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا شکایات کے اندراج کے لیے کوئی ایمرجنسی نمبر جاری کیا گیا ہے، جس پر بتایا گیا کہ چھ، سات اور آٹھ فروری کو بسنت منائی جائے گی اور اس سے قبل کسی قسم کی پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔ مزید بتایا گیا کہ پبلک سیفٹی کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اقدامات اور سیفٹی آلات فراہم کیے جائیں گے۔عدالت میں ایس پی سٹی بلال احمد نے بتایا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ متعدد میٹنگز کی جا چکی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، شورٹی بانڈز لیے جا رہے ہیں اور غیر قانونی پتنگ بازی میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ تاہم جسٹس ملک محمد اویس خالد نے ہدایت کی کہ کریک ڈاؤن ایسا نہ ہو جیسے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہو اور چار دیواری کے تقدس کا ہر صورت خیال رکھا جائے۔ایس پی سٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہر ایس ایچ او نے اپنے اپنے علاقوں میں کائٹ اسکواڈز تشکیل دے دیے ہیں۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ عوام کو حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہی ہی نہیں، اور سوال اٹھایا کہ آیا اس حوالے سے بینرز اور دیگر آگاہی ذرائع نصب کیے گئے ہیں یا نہیں ؟ درخواست گزار وکیل اظہر صدیق نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اب بھی مختلف اخبارات میں پتنگ بازی کے باعث گردنیں کٹنے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بسنت کے خلاف نہیں بلکہ خونی بسنت کے خلاف ہیں اور اگر اب بھی کوئی بڑا حادثہ پیش آیا تو لوگ آئندہ کئی دہائیوں تک بسنت منانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
عدالت نے فریقین کے جوابات ریکارڈ پر لاتے ہوئے درخواست گزار وکیل کو ہدایت کی کہ وہ ان جوابات پر اپنے اعتراضات اور جواب الجواب آئندہ سماعت پر پیش کریں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 جنوری تک ملتوی کر دی۔