سٹی42: پڑوسی ملک میں ساڑھے تین ارب ڈالر کی آن لائن رئیل منی گیمنگ انڈسٹری کا مستقبل تاریک ہو گیا۔
’آن لائن گیمنگ بل‘ قانون بن کر نافذ ہو گیا۔ فینٹسی گیمنگ پر اب تالا لگے گا اور بہت سی ویب سائتس اور ایپس کا دندا ٹھپ ہو جائے گا۔
نئی دہلی میں بھارت کی سدر نے آج پارلیمنت کے منطور کئے بل پر دستخط کر کے اسے قانون کی حیثیت سے نافذ کروا دیا ہے۔ نئے قانون کے تحت سبھی آن لائن منی گیمنگ سروسز پر پابندی عائد ہو گئی ہے اور اس طرح کے گیم دستیاب کرانے والوں کو 3 سال تک کی قید اور ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ نئے قانون میں آن لائن منی گیمنگ پلیٹ فارم کی تشہیر کرنے پر 2 سال جیل تک کی سزا اور 50 لاکھ روپے تک کے جرمانہ کا التزام ہے۔
بھارت کی پارلیمنٹ کے حالیہ مانسون اجلاس میں ’آن لائن گیمنگ بل‘ کسی بحث مباحثہ کے بغیر پاس ہوا تھا۔ یہ بل 20 اگست کو لوک سبھا اور 21 اگست کو راجیہ سبھا سے پاس ہوا تھا۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے پاس اس ’آن لائن گیمنگ پروموشن اینڈ ریگولیشن بل‘ کو صدر دروپدی مرمو کی منظوری بھی مل گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب فینٹسی گیمنگ ایپس پر تالا لگنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس قانون کے نافذ ہونے سےبھارت کی آن لائن گیمنگ انڈسٹری کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ’ڈریم 11‘ اور ’مائی الیول سرکل‘ جیسے فنتاسی گیمنگ ایپس نے اپنے پلیٹ فارم پر ’رئیل منی گیمس‘ پر روک لگا دی ہے۔ ملک میں آن لائن گیمنگ انڈسٹری مجموعی طور پر 3.8 ارب ڈالر ہونے کا اندازہ ہے۔ نئے قانون سے اس صنعت کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے۔