24نیوز: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر ریمارکس دئیے ہیں کہ عزت کا راستہ یہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے۔ ضمیر کے مطابق جو آئین کے تحت درست لگتا ہے وہ کرتے ہیں۔دعا ہوتی ہے کہ ہمارے فیصلوں سے ملک میں بہتری ہو۔سیاستدانوں کو قربانیاں دینا ہوں گی۔
سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے ویڈیو لنک پر دلائل کا آغاز کر تے ہوئے کہا 63اے کو شامل کرنے کا مقصد ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنا تھا۔ 63 اے کی خلاف ورزی آئین کی خلاف ورزی ہے۔63اے کے نتیجے میں ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ ووٹ کاسٹ تو ضرور ہو گا لیکن اس کو گنا نہیں جائے گا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ک ہعلی ظفر صاحب اگر اپ نے دس منٹ میں مکمل نہ کیا تو پھر مخدوم علی خان کو سنیں گے۔ جس پر علی ظفر نے کہا میں دس منٹ میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا۔
وکیل پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے کردار اور اہمیت پر عدالتی فیصلے موجود ہیں۔آزاد اور سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈرز ممبر اسمبلی بنتے ہیں۔ 63 اے سیاسی جماعتوں کے ممبر سے متعلق ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ علی ظفر آپ کہہ رہے ہیں ووٹ کاسٹ نہیں ہوں گے؟ جس پر علی ظفر نے جواب دیا میں عدالتی تشریح کے ذریعے استدعا کر رہا ہوں۔
جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دئیے کہ انحراف کا فیصلہ پارٹی سربراہ نے کرنا ہے۔ اگر سیاسی جماعت کی کوئی ہدایت ہی نہ ہو تو ووٹ گنا جائے گا یا نہیں؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے ووٹ شمار کرنا اور انحراف کرنا دونوں مختلف چیزیں ہیں۔کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ہدایات نہ ہونے پر بھی رکن اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں ہوگا؟
علی ظفر نے کہا پہلے سربراہ ہدایات جاری کرے گا پھر ممبران کے خلاف ڈیکلریشن جاری کرے گا۔
جسٹس جمال خان نے سوال اٹھایا کیا ڈیکلریشن کی عدم موجودگی میں بھی ووٹ نہیں گنا جائے گا؟ اگر ووٹ گنا نہ جائے تو مطلب جرم ہی نہیں کیا۔ووٹ نہ ڈالنے کی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔63اے میں بتایا گیا ہے کہ ووٹ تو کاسٹ کرلیں گے لیکن سیٹ چلی جائے گی۔رکن اسمبلی نے فیصلہ کرنا ہے کہ ووٹ کرنا ہے یا نہیں۔
جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دئیے ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد ہی پارٹی سربراہ ڈیکلریشن دے گا۔ پارٹی سربراہ ووٹ کاسٹ ہوتے وقت بھی سپیکر کوبتاسکتا ہے۔
جسٹس جمال خان نے ریمارکس دئیے کہ ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد پارٹی سربراہ پہلے شوکاز نوٹس دے گا پھر جواب لے گا۔نوٹس کے بعد ملنے والے جواب سے پارٹی سربراہ مطمئن ہو کر شوکاز ختم بھی کر سکتا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کیا آپ کہہ رہے ہیں پارلیمانی پارٹی کی ہدایت اکثریت کی ہوتی ہے۔آپ کہہ رہے ہیں پینل کوڈ نہیں کہ جرم ہو گیا ہے تو لاش ملنے کے بعد ہی کارروائی ہوگی۔ آپ کہہ رہے ہیں بھٹو دور میں شامل کیے گئے آرٹیکل 96 کی طرح اقلیت کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ آپکے مطابق قومی مفاد اور اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے ووٹ کو نہیں گننا چاہیے۔ رضا ربانی اور فاروق نائیک کا کہنا ہے پارٹی سربراہ کے بے پناہ اختیارات کو روکنے کیلئے سزا واضح نہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سوال یہ ہے کہ فیصلہ سربراہ کرتا ہے یا پارلیمانی پارٹی کرتی ہے۔پارلیمانی پارٹی میں فیصلہ سازی کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے۔
علی ظفر نے کہا سیاسی پارلیمانی جماعت کا آئین ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اکثریت فیصلہ کرتی ہے۔
جسٹس جمال خان نے سوال اٹھایا کیا سیاسی جماعت اس کینسر کا علاج خود نہیں کر سکتی؟ سیاسی جماعتوں کو تکلیف ہے تو علاج کریں۔ہمارے سامنے اکثر جماعتیں آپ کے موقف کے خلاف ہیں۔آپ کیا توقع کررہے ہیں ہم اکثریت کو چھوڑ کر آپ کی بات مانیں گے۔ صرف ایک سیاسی جماعت منحرف اراکین اسمبلی کے خلاف ہے۔
علی ظفر نے کہا تشریح کا حق عدالت کے پاس ہے۔ سمجھ سکتا ہوں کہ عدالت تشریح سے آگے نہیں جانا چاہتی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے بڑا واضح ہے کہ قانون سازی کرنا پارلیمان کا کام ہے۔ تشریح کرنا عدالت کا کام ہے۔آئین میں 63اے شامل کرنے کا مقصد انحراف کے کینسر کو ختم کرنا تھا۔
بعدازاں عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کو تحریری معروضات جمع کروانے کی ہدایت کردی۔
پاکستان مسلم لیگ ق کی جانب سےوکیل اظہر صدیق نے دلائل دئیے کہ آرٹیکل 63 اے تحریک عدم اعتماد کیخلاف حفاظتی دیوار ہے۔ جمہوریت کے چمپئن بننے والوں نے مینڈیٹ کے احترام کا معاہدہ کیا تھا۔عملی طور پر جو کچھ کیا گیا وہ میثاق جمہوریت کیخلاف ہے۔
مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا آج ایک گھنٹے میں دلائل مکمل نہیں کر سکوں گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا اگلے دو ہفتے بنچ دستیاب نہیں ہوگا۔ چاہتے ہیں آرٹیکل 63اے پر جلد از جلد اپنی رائے دیں۔
جس پر مخدوم علی خان نے کہا 14 مئی کو بیرون ملک سے میری واپسی ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا اپنے دلائل کا خلاصہ بیان کر دیں پھر دیکھیں گے۔
مخدوم علی خان نے کہا قومی اسمبلی کی مدت پانچ سال ہوتی ہے۔ منحرف رکن اسمبلی کی مدت تک ہی نااہل ہو سکتا۔ آئین کی تشریح کا عدالتی اختیار ختم نہیں کیا جاسکتا۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ ضمیر کے مطابق جو آئین کے تحت درست لگتا ہے وہ کرتے ہیں۔دعا ہوتی ہے کہ ہمارے فیصلوں سے ملک میں بہتری ہو۔
مخدوم علی خان نے کہا فیصلہ خلاف ہی کیوں نہ ہو اس پر بغیر مزاحمت کے عمل ہونا چاہیے۔عدالت کے سامنے اب کوئی مواد نہیں کہ اراکین کیوں منحرف ہوئے۔رشوت لینے کے شواہد ہیں نہ ہی یہ معلوم کہ ضمیر کی آواز پر منحرف ہوئے۔رکن کیوں منحرف ہوا یہ شواہد دینا اسکا کام نہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیا عدالت صرف سوال کی حد تک آئین کی تشریح کر سکتی ہے۔ جس پر مخدوم علی خان نے کہاعدالت سے رائے مانگی گئی ہے۔عدالت اپنا اختیار 184/3 میں استعمال کر سکتی ہے۔آرٹیکل تریسٹھ اے پارٹی سے بے وفائی روکنے کیلئے نہیں ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کا کام تمام آئینی سوالات کا جواب دینا ہے۔ جاننا چاہیں گے آرٹیکل 63 اے پر رائے کس حد تک دے سکتے ہیں؟ کیا عدالت ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کے الفاظ کی قیدی ہے یا اس سے ہٹ کر تشریح کر سکتی ہے؟ ملک کو میچور جمہوریت کی طرف لےکر جانا ہوگا۔ میچور جمہوریت کیلئے ضروری ہے قانون ساز سیر حاصل بحث کریں۔
جسٹس منیب اختر نے کہا عزت کا راستہ یہ ہی ہے کہ منحرف رکن مستعفی ہو کر گھر جائے۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ سیاستدانوں کو قربانیاں دینا ہوں گی۔ بعد ازاں کیس کی مزید سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی گئی۔