ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مہنگائی اور فیڈ پالیسی کے خدشات، سونے کی قیمت میں کمی

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی، سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی فیڈ کی پالیسی پر

مہنگائی اور فیڈ پالیسی کے خدشات، سونے کی قیمت میں کمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے مہنگائی کی صورتحال اور امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود سے متعلق پالیسی کا جائزہ لینا قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز سونے کی قیمت میں تقریباً 0.5 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں بلین کی قیمت 4,360 ڈالر فی اونس کی سطح سے نیچے آگئی۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سونے کی قیمت میں حالیہ کمی امریکی فیڈرل ریزرو کے 15 اور 16 ستمبر کو ہونے والے اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں مرکزی بینک نے شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کیا۔ یہ 2023 کے بعد فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں پہلا اضافہ تھا۔

فیڈ کے تمام پالیسی سازوں نے شرحِ سود بڑھانے کے فیصلے کی حمایت کی۔ مرکزی بینک کی جانب سے یہ قدم مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کے سلسلے میں اٹھایا گیا، جو طویل عرصے سے فیڈ کے 2 فیصد ہدف سے اوپر برقرار ہے۔

اب سرمایہ کاروں کی توجہ رواں ہفتے فیڈرل ریزرو کے متعدد پالیسی سازوں کے متوقع عوامی بیانات پر مرکوز ہے۔ ان بیانات سے امریکی شرحِ سود کے مستقبل کے حوالے سے مزید اشارے ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق شرحِ سود، مہنگائی اور امریکی مانیٹری پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں سونے کی عالمی قیمت کو متاثر کرنے والے اہم عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرمایہ کار عالمی معاشی حالات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے سونے کی آئندہ سمت کا اندازہ لگا رہے ہیں۔