ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بنگلہ دیش: پٹرولیم مصنوعات مہنگی، ڈیزل کی قیمت میں 17 فیصد سے زائد اضافہ

بنگلہ دیش: پٹرولیم مصنوعات مہنگی، ڈیزل کی قیمت میں 17 فیصد سے زائد اضافہ
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور شپنگ اخراجات بڑھنے کے بعد بنگلہ دیش نے ایندھن کی قیمتوں میں 17.4 فیصد تک اضافہ کردیا، جس سے پہلے ہی توانائی بحران کا سامنا کرنے والے عوام اور کاروباری شعبے پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

 رائٹرز کے مطابق نئی قیمتیں پیر سے نافذ کردی گئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی ایندھن کی قیمتیں مارچ 2026 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث مال برداری کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 نئی قیمتوں کے تحت ڈیزل کی قیمت 115 ٹکا سے بڑھا کر 135 ٹکا فی لیٹر کردی گئی ہے، جو 17.4 فیصد اضافہ ہے۔ اوکٹین کی قیمت 145 سے بڑھ کر 165 ٹکا فی لیٹر، پٹرول 140 سے 160 ٹکا جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت 135 سے بڑھا کر 155 ٹکا فی لیٹر کردی گئی ہے۔

 حکومت کے مطابق قیمتوں میں تازہ اضافہ رواں سال اپریل اور جون میں کیے گئے اضافوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کے اثرات کو کم کرنا اور سرکاری خسارے پر قابو پانا ہے۔

 وزارتِ توانائی کے مطابق سرکاری ادارے بنگلہ دیش پٹرولیم کارپوریشن کو مارچ سے اگست کے دوران 228.76 ارب ٹکا، یعنی تقریباً 1.9 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ حالیہ قیمتوں میں اضافے سے سالانہ نقصان میں تقریباً 100 ارب ٹکا کمی لائی جاسکتی ہے۔

 حکام کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ اور ایسے ممالک کو ایندھن کی اسمگلنگ روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے جہاں قیمتیں زیادہ ہیں۔

 ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بنگلہ دیش کی درآمد پر انحصار کرنے والی معیشت میں ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ ملک کا اہم گارمنٹس برآمدی شعبہ پہلے ہی بجلی اور گیس کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔