ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سیلاب کی تباہ کاریاں :سندھ کے سیکڑوں دیہات زیرِ آب, فصلیں تباہ

سیلاب کی تباہ کاریاں :سندھ کے سیکڑوں دیہات زیرِ آب, فصلیں تباہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پنجاب میں 86.12 ارب روپے کے بھاری مالی نقصان کے بعد تباہ کن سیلابی پانی اب سندھ میں داخل ہو چکا ہے، جہاں کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے سندھ، ستلج اور چناب کے سیلابی ریلوں نے درجنوں دیہات کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔

دادو، سجاول اور ٹھٹھہ میں صورتحال سنگین:

دادو کے کچہ علاقے کے مزید 50 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں، جب کہ دادو اور میہڑ کے درمیان زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ ٹھٹھہ اور سجاول کے کچہ علاقوں کے دیہات بھی سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔ ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اوباڑو میں جلدی امراض، دواؤں کی قلت:

اوباڑو اور ملحقہ علاقوں میں سیلاب کے بعد جلدی امراض کی وبا پھیل گئی ہے، جبکہ تحصیل اسپتال میں دواؤں کی شدید قلت ہے۔ مقامی افراد نے حکومت سے فوری امداد اور میڈیکل کیمپس کی اپیل کی ہے۔

احمد پور سیال: بند ٹوٹنے سے درجنوں دیہات متاثر

سمندوانہ کے مقام پر بند ٹوٹنے سے درجنوں دیہات پانی کی لپیٹ میں آ گئے۔ فصلیں تباہ ہوئیں جبکہ ایک پیٹرول پمپ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

بہاولپور، پاکپتن، بہاولنگر، لیاقت پور میں تباہی

دریائے ستلج نے قائم پور، نور پور، باقر کے، بستی جانن والی، اور دیگر علاقوں میں وسیع تباہی مچائی۔ سینکڑوں مکانات دریا برد ہو گئے، متعدد دیہات مکمل تباہ، مدارس، مساجد اور اسکول بھی نقصان کی زد میں آ گئے۔ جلالپور پیروالا میں دو خواتین اور ایک نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔

ملتان، اوچ شریف اور احمد پور شرقیہ میں مکانات گر گئے

شمس آباد، بھنڈہ وینس، جھانگڑہ شرقی، بیٹ بلوچ، بیٹ بھتڑ سمیت کئی علاقے زیرِ آب ہیں، مکانات مکمل منہدم، رابطہ سڑکیں تباہ، نقل و حمل کا نظام معطل ہے۔

ریلیف کیمپ خالی کرانے پر احتجاج

بہاولپور کے باقر پور میں متاثرین نے انتظامیہ پر ریلیف کیمپ خالی کرانے کا الزام عائد کیا، تاہم ڈپٹی کمشنر نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صرف بہتری کی صورت میں متاثرین کو واپسی کا کہا گیا ہے۔

گڈو اور چشمہ بیراج پر صورتحال

گڈو بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 44 ہزار کیوسک ہے۔ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 58 ہزار کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 52 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تمام اضلاع کو فوری ریلیف اقدامات تیز کرنے، رابطہ سڑکوں کی بحالی اور متاثرین کی فوری امداد کی ہدایات جاری کی ہیں۔