سٹی42: اس سال کلاوڈ برسٹ ہوں گے اور شہروں میں سیلاب آئیں گے۔ مون سون کی بارشیں جنہیں پاکستان میں برسات کا موسم کہا جاتا ہے وہ جون کے آخری ہفتے شروع ہو جائیں گی۔
سینیٹر شیری رحمان کی صدارت میں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے دفتر میں ہوا۔ این ڈی ایم اے کا چئیرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ اس سال مون سون کی زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے، پاکستان میں 26 یا 27 جون کو مون سون کی ہوائیں پہنچنا شروع ہو جائیں گی۔
پاکستان میں برسات کا موسم روایتاً جولائی کے پہلے ہفتے سے 15 ستمبر تک چلتا ہے۔ جون کے آخری ہفتے ہونے والی بارشوں کو پری مون سون تصور کیا جاتا ہے۔
اس سال برسات کے متعلق این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شمالی پنجاب اور مشرقی پنجاب میں زیادہ بارش ہوگی۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلیشئرز کے پگھلنے سے لوکل فلڈز، نالوں میں طغیانی آئے گی راجن پور اور ڈی جی خان میں بھی زیادہ بارشیں ہوسکتی ہیں، ان اضلاع کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔حکام نے بتایا کہ پنجاب میں درجہ حرارت میں دو سے تین ڈگری کا فرق آ رہا ہے، سندھ میں 2.5 ڈگری نارمل سے زیادہ درجہ حرارت ہو گا، کے پی میں 1.5 ڈگری فرق ہے۔ پنجاب میں 344 ملی میٹر بارش ہوتی ہے جبکہ اس بار 388 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، شمالی مشرقی پنجاب میں بارش پچاس فیصد زیادہ ہوگی، جنوبی پنجاب میں بھی زیادہ بارش ہوگی۔
این ڈی ایم اے کے مطابق سلیمان رینج میں hill torrents نظر آ رہے ہیں، شمالی کے پی میں کم جبکہ جنوبی کے پی میں نارمل یا نارمل سے زیادہ بارش ہوگی۔ چترال اور گلیشیر والے کے پی میں بارش کم ہو گی۔
کے پی میں عام طور پر 243 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، اس سال 300 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، آزاد کشمیر میں بھی زیادہ بارش ہو گی، بلوچستان میں کم بارش ہوگی اور درجہ حرارت زیادہ ہوگا۔ مون سون میں کلاوڈ برسٹ بھی زیادہ ہوں گے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بھی ہم پر اثر انداز ہو سکتا ہے جس پر چئیرمین این ڈی ایم اے انعام حیدر ملک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر اسٹڈی شروع کر رکھی ہے، بھارت کے پاس جو مغربی دریاؤں پر کیپیسٹی تھی وہ اس سے کم پانی استعمال کر رہے ہیں، اس سال basin میں 35 فیصد کم پانی ہوگا گزشتہ سال31 فیصد کم تھا۔