ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ کیلئے عالمی مالیاتی نظام میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں؛ اسحاق ڈار

پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ کیلئے عالمی مالیاتی نظام میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں؛ اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے، ہم نے ڈیجیٹل یوتھ حب کا آغاز کیا ہے, دانش اسکولوں اور نئی جامعات کے کیمپسز کے ذریعے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسعت دے رہے ہیں۔ 

اقوامِ متحدہ اعلیٰ سطح سیاسی فورم (HLPF) کے مباحثے میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ 2030 تک صرف پانچ سال باقی ہیں، اس وقت صرف 35 فیصد پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) درست سمت میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی وبا، خوراک، ایندھن اور مالیاتی بحرانوں کے مشترکہ اثرات، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ترقی کے ثمرات کو پلٹ دیا ہے, ان ثمرات کو بڑی مشکل سے حاصل کیا گیا تھا۔ 

اسحاق ڈار نے کہا کہ عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے, ان چیلنجوں کے باوجود، پاکستان 2030 کے ایجنڈے کے حصول کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے، ہماری قومی ترقیاتی حکمت عملیاں، بشمول اُڑان پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں, ہماری سماجی تحفظ کی اسکیمیں یقینی بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے, ان اسکیموں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بینظیر نشوونما (بچوں کی نشوونما کے پروگرام) شامل ہیں۔ 

وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو بڑھا رہے ہیں, اس میں 2030 تک 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا ہدف شامل ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ، ریچارج پاکستان اور لیونگ انڈس جیسے اقدامات کے ذریعے ہماری مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نیا قومی سطح پر مقرر کردہ موسمیاتی وعدہ (NDC) آخری مراحل میں ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے مالیاتی استحکام کے لیے کلیدی معاشی اصلاحات متعارف کرائی ہیں، ہم نے سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مزید سازگار بنایا ہے، ایس آئی ایف سی ترجیحی شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے۔  اسحاق ڈار نے کہا کہ اگرچہ قومی سطح کی کوششیں اہم ہیں، لیکن یہ تنہا کافی نہیں ہو سکتیں, پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں, ترقی پذیر ممالک کو رعایتی اور گرانٹ پر مبنی وسائل تک وسیع رسائی کی ضرورت ہے, بامعنی قرضوں میں ریلیف، اور موسمیاتی فنانس میں اضافہ درکار ہے, تاکہ وہ پائیدار ترقی کے اہداف کی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ 

انہوں نے کہا کہ چوتھی عالمی کانفرنس برائے مالیاتی ترقی میں منظور کردہ کمپرومیسو ڈی سیویل ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے, اس پر عمل درآمد میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں، سیکرٹری جنرل کا UN80 اقدام ہمیں ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، کہ ہم اقوامِ متحدہ کے تین ستونوں کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے بروقت حصول کے لیے اپنی اجتماعی وابستگی کو ازسرنو اجاگر کریں۔