ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قومی و صوبائی اسمبلیز میں خواتین کیلئے مختص 192 مخصوص نشستیں ختم کرنے کا بل پیش

قومی و صوبائی اسمبلیز میں خواتین کیلئے مختص 192 مخصوص نشستیں ختم کرنے کا بل پیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیز میں خواتین کے لیے مختص 192 مخصوص نشستیں ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا، خواتین کی مخصوص نشستیں ختم کرنے کا بل اپوزیشن رکن اسلم گھمن نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔

 آئین میں ترمیم کے اس بل میں آئین کے آرٹیکل 51 اور آرٹیکل 106 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے، آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی میں خواتین کے لئے 60 مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں، قومی اسمبلی میں صوبہ بلوچستان کے لئے 4، کے پی کے 10، پنجاب 32 ، سندھ کے لئے 14 خواتین کے لئے مخصوص نشستیں شامل ہیں۔

 قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے متعلق آئین کے آرٹیکل 51 میں تجویز کردہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے لئے مخصوص کردہ نشستوں کی غرض کے لئے ہر ایک صوبہ مع وفاقی حکومت کو ساتھ حلقہ ہائے انتخاب میں تقسیم کیا جائے، ان مخصوص نشستوں پر قانون کے مطابق انتخابی حلقہ کے براہ راست اور آزادانہ ووٹ کے ذریعے ارکان منتخب کیے جائیں۔

  بل کا متن میں صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے متعلق آئین کے آرٹیکل 106 میں بھی ترمیم تجویز کردی گئی ہے، آرٹیکل 106 کے تحت صوبائی اسمبلی بلوچستان میں خواتین کے 11 ،پنجاب اسمبلی میں 66 ،کے پی کے اسمبلی میں 26 ،اور سندھ اسمبلی میں خواتین کے لئے 29 مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔

 متن کے مطابق آرٹیکل 106 میں تجویز کردہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے لئے مخصوص نشستوں کے غرض کے لئے ہر ایک صوبہ کو شق (1) کے تحت مقررہ حلقہ ہائے انتخاب کی تعداد تقسیم کیا جائے، ہر صوبے کے لئے مخصوص خواتین کی نشستوں پر قانون کے مطابق براہ راست انتخاب کیا جائے گا۔