ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چولستان کے صحرا کو نخلستان بنانے کے لئے پانی ملے گا، ارسا نے سرٹیفیکیٹ دے دیا

Sulemanki Head Works, City42
کیپشن: انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ارسا نے ہیڈ سلیمانکی سے چولستان کے صحرائی علاقہ کو پانی فراہم کرنے کے لئے نہر کو پانی کی فراہمی کیلئے پانی دستیاب ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے۔ اس سرٹیفیکیٹ کے اجرا کے بعد نہر کی تعمیر کے منصوبہ کا آغاز ہونے میں کوئی رکاوٹ باقی نہین رہی۔ چولتان تک نئی نہر جانے سے لاکھوں ایکڑ صحرائی زمین گل و گلزار بنے گی۔ ہیڈ سلیمانکی کی فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے چولستان  کے صحرا میں نخلستان اگانے کے لئے پنجاب کے حصے سے  پانی فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔

سیکرٹری ارسا نے پنجاب حکومت کو پانی دستیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا۔ ذرائع کے مطابق ارسا کی منظوری کے بعد پنجاب حکومت دریائے ستلج سلیمانکی ہیڈورکس سے چولستان کینال نکالے گی۔

ارسا حکام نے بتایاکہ چولستان منصوبے کیلئے 4  لاکھ 50 ہزار ایکڑفٹ پانی دستیاب ہوگا۔

   ارسا کے سندھ سے ممبر احسان لغاری  نے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا ہے۔ سندھ سے ارسا  کے ممبر نے اپنے "اختلافی نوٹ" میں لکھاکہ  میں سیکرٹری ارسا کی جانب سے چولستان منصوبے کو پانی کی فراہمی کی منظوری سے متفق نہیں ہوں۔ سیکرٹری ارسا کا پنجاب حکومت کو پانی دستیابی کا سرٹیفکیٹ دینا سندھ سے ناانصافی ہے۔

ممبر سندھ  ک مؤقف ہے کہ  چولستان کیلئے نہر نکالنے کے منصوبہ سے دریائے سندھ کا پانی کم ہوگا، سیکرٹری ارسا نے جس پانی کی دستیابی کا ذکر کیا ہے، یہ صرف دریائے ستلج کا نہیں ہے، سلیمانکی ہیڈ ورکس سے لنک کینال کے ذریعے پانی لیا جائے گا۔

 چولستان میں 'گرین پاکستان' منصوبے کا آغاز  ارسا کی منظوری سے پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ افتتاح کی تقریب میں وزیراعلیٰ مریم نواز اور آرمی  کے چیف جنرل عاصم منیر نے شرکت کی تھی۔

اس افتتاح کے ساتھ گرین ایگری مال اینڈ سروس کمپنی، اسمارٹ ایگری فارم، زرعی تحقیق اور سہولت مرکز کا افتتاح کیا گیا تھا۔۔

 سندھ میں "دریائے سندھ سے نہریں نکالنے " کے خلاف  تقریباً تمام سیاسی اور  غیر سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت اور پنجاب کا مؤقف ہے کہ ارسا اکارڈ کے تحت سندھ صوبہ کے طے شدہ پانی کے حصہ سے کچھ نہین لیا جائے گا۔ پنجاب کے طے شدہ شئیر سے ہی اس نئی نہر کو بھی پانی ملے گا جس سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آئے گی اور لاکھوں ہی لوگوں کو روزگار ملے گا اور پاکستان کی زراعت کو نئی زندگی ملے گی۔

چولستان کے صحرا کو آباد کرنے کے لئے  ہیڈ سلیمانکی سے  نہر نکال کر پانی لانا کوئی دو چار برس کا نہیں کئی سنلوں کا خواب ہے۔ اس خواب کو لے کر  ہزاروں لوگوں نے حکومتوں کو قائل کرنے کے لئے دلائل کے انبار لگائے، کبھی اس منسوبہ کو وقتی قبولیت ملی تو سندھ میں اس کے خلاف تعصب کی بنیاد پر مہمیں چلیں، اسے سندھ کے حقوق پر ڈاکہ سے تعبیر کیا گیا، کبھی اسے پنجاب کی وفاق مین ڈکٹیٹر شپ کا رنگ دیا گیا۔ اب موجودہ حکومت نے ملک کی برباد شد معیشت کو بحال کرنے کے لئے جس ہمہ گیر حکمتِ عملی کو اپنا کر عملی جامہ پہنانا شروع کیا ہے اس میں چولستان کے صحرا کو گلزارت بنانا اہم  ترین فیکٹر ہے۔