مریم نواز اور یوسف عباس سے تفتیش کے مندرجات منظرعام پر آگئے

 مریم نواز اور یوسف عباس سے تفتیش کے مندرجات منظرعام پر آگئے

( سعود بٹ) چوہدری شوگر مل کیس ، مریم نواز اور یوسف عباس سے ہونے والی تفتیش کے مندرجات منظرعام پر آگئے، مریم نواز کے بیرون ملک افراد کے ساتھ کاروباری تعلقات کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔

نیب رپورٹ کے مطابق مریم نواز 2008 سے 2010 کے دوران چوہدری شوگر ملز کی سب سے زیادہ شیئر ہولڈر رہیں، ان 2 سالوں میں مریم نواز کے شیئرز کی مالیت 12ملین تھی چوہدری شوگر ملز میں شریک ملزم نواز شریف کے2015اور2016میں شیئرز12ملین تھے۔

دوران ریمانڈ مریم نواز سے ایس ای سی پی سے موصول ہونے والے ریکارڈ کے متعلق تفتیش کی گئی، مریم نواز نے2008 میں 11ملین کے شیئرز 3 غیر ملکی کمپنیوں سے حاصل کیے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مریم نواز نے سعید سیف بن جبرالصیودی، حانی احمد جمجون اور شیخ زکاءالدین کمپنی سے شیئر موصول کیے، مریم نواز نے ابتدائی موقف اپنایا کہ یہ شیئرز انہوں نے خود خریدے، جبکہ دوسرے موقف میں مریم نواز نے کہاکہ انکی مرضی کے بغیر انکے اکاؤنٹس میں شیئر ٹرانسفرکیے گئے۔

رپورٹ کےمطابق مریم نواز کو 2008 میں سعید سیف بن جبر کی جانب سے 94 لاکھ 9 ہزار کےشیئرز منتقل ہوئے، شیخ زکاءالدین نے20 لاکھ،21 لاکھ کے 760 شیئرز منتقل کیے، ہانی احمد جمون کیجانب سے مریم صفدر کو97 ہزار شیئرز منتقل کیے گئے، 2010 میں مریم صفدر نے یوسف عباس کو 70 لاکھ شئیرز منتقل کیے۔

2010 میں مریم نواز نے نواز شریف کو 50 لاکھ شیئرز منتقل کیے، یوسف عباس کو 2013 میں بیرون ملک سے 13 کروڑکی رقم منتقل کی گئی،جبکہ یوسف عباس کو یہ رقم 5 ٹرانزیکشنز کے ذریعے ایک ہی بنک میں منتقل کی گئی۔