ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اے آئی پروگرام کا کارنامہ۔۔ جیمینائی نے 3کمپنیوں  کا سسٹم ہیک کر لیا

اے آئی پروگرام کا کارنامہ۔۔ جیمینائی نے 3کمپنیوں  کا سسٹم ہیک کر لیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: GOOGLE
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : آرٹیفیشل انٹیلجنس ( اے آئی) پروگرام نت نئے گل کھلارہا ہے، اور اب حال ہی میں اب گوگل کے جیمینائی نے سیکوریٹی چیک اپ  کے دوران 3کمپنیوں  کا سسٹم ہیک کر لیا۔ گوگل نے اس معاملے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گوگل نے 19ستمبر2026 کو تصدیق کی ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت ( اے آئی) ماڈل جیمنی نے سائبر سیکوریٹی کی صلاحیت جانچنے کیلئے کیے گئے ایک ٹیسٹ کے دوران تین کمپنیوں کے نظام ہیک کیے، تاہم ہر بار کارروائی مکمل کرنے سے پہلے خود رک گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ جیمنی کی جانب سے ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل کر حقیقی نظام تک رسائی حاصل کرنے کا پہلا واقعہ مئی میں پیش آیا، جب سیکورٹی کمپنی ’اِریگولر‘کی جانب سے ایک ٹیسٹ کیا جا رہا تھا۔ یہ واقعہ ان متعدد واقعات میں تازہ ترین ہے جن میں اے آئی ماڈلز نے آزمائشی ماحول سے باہر نکل کر دیگر کمپنیوں کے نظام تک رسائی حاصل کی۔ ٹیسٹ کے دوران جیمنی کو ایک فرضی کمپنی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا کام دیا گیا تھا، تاہم اسے انٹرنیٹ تک غیر مناسب رسائی حاصل ہوگئی۔ پہلے واقعے میں ماڈل نے ایک پاس ورڈ کا اندازہ لگا کر ایک حقیقی کمپنی کی سروس تک رسائی حاصل کرلی۔

اس خبر پر گوگل کی سیکوریٹی انجینئرنگ کی نائب صدر ہیدر ایڈکنز نے الجزیرہ کے جان ہینڈرین کو بتایا کہ دیگر واقعات میں ماڈل نے آن لائن دستیاب عوامی معلومات تلاش کیں اور ایسے کریڈنشیئل کا اندازہ لگایا جن کے ذریعے ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جا سکتی تھی جنہیں وہ ٹیسٹ کا حصہ سمجھ رہا تھا۔ کمپنی کے مطابق ایسا تین مرتبہ ہوا اور ہر مرتبہ ماڈل نے کارروائی مکمل کرنے سے پہلے خود کو روک لیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اِریگولر نے جولائی کے آخر میں گوگل کو ان ہیکنگ واقعات سے آگاہ کیا تھا۔ گوگل نے کہا کہ یہ رویہ ماڈل کے غلط سمت میں جانے یا ماڈل مس الائنمنٹ کی مثال نہیں تھا اور اسے عوامی طور پر ظاہر کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی، کیونکہ جیمنی کے حفاظتی اقدامات نے اپنا کام کیا تھا۔ اِریگولر سے متعلق اسی نوعیت کے واقعات اس سے قبل میٹا، اینتھروپک اور اوپن اے آئی کی جانب سے بھی ظاہر کیے جا چکے ہیں۔ اِریگولر نے کہا ہے کہ وہ اے آئی سائبر سکیورٹی ٹیسٹ محفوظ طریقے سے انجام دینے کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اینتھروپک کی جانب سے اس واقعے کی تفصیلات سامنے لانے سے قبل اوپن اے آئی نے انکشاف کیا تھا کہ اس کے ماڈلز نے ٹیسٹنگ کے دوران انٹرنیٹ تک غیر مناسب رسائی حاصل کی اور قابو سے باہر ہو گئے۔