ایس ایم عتیق شاہ بخاری:بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار چنکی پانڈے نے بالی ووڈ فلم’’ آگ ہی آگ‘‘ سےفلمی کریئر کاآغاز کیا تھا۔جس کی کاسٹ میں متعدد بڑے بڑے بھارتی ادکار شامل تھے، لیکن آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ یہ فلم پاکستان کی مشہور پنجابی فلم ’’ شیر خان‘‘ کا چربہ تھی۔
بھارتی فلم ’’ آگ ہی آگ‘‘ کا میوزک بھارت کے نامور میوزک ڈائریکٹر بپی لہری نے ترتیب دیا تھا اور اس فلم میں اس دور کے جان پہچانے گلوکاروں لتا منگیشکر، آشا بھوسلے اور شبیر کمار نے خوبصورت گانے گائے۔1980 کی دہائی میں بننےوالی اس فلم دوسری فلموں کی بڑی سٹار کاسٹ، زوردار ایکشن، جذبات اور گیت شامل تھے،فلمساز پہلاج نہلانی اور ہدایتکار شبھو مترا کی اس فلم میں ونود مہرا اور دھرمیندر جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ نیلم کوٹھاری، گلشن کمار، ڈینی ڈینزونگپا اور موسمی چٹرجی شامل تھیں، فلم ’ آگ ہی آگ‘ نے بھی ناظرین کی خاصی توجہ حاصل کی، لیکن فلموں کے شوقین لوگوں کو اس فلم سے جڑی ایک دلچسپ بات کا کم علم ہے کہ’ آگ ہی آگ‘ کی کہانی اور کئی مناظر 1981کی پاکستانی پنجابی فلم ’ شیر خان‘ سےلئےگئےتھے۔ اس فلم میں دھرمیندر کی اداکاری کو بھی خاصی پذیرائی ملی۔
فلم ’’ آگ ہی آگ‘‘کی اصل دلچسپ کہانی اس کے پردے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ ’ آگ ہی آگ‘ دراصل پاکستانی فلم ’ شیر خان‘ کا ری میک تھی۔1981 ریلیز ہونے والی ’ شیر خان‘ پاکستانی پنجابی سنیما کی ایک بڑی کامیاب فلم تھی۔ یونس ملک کی ہدایتکاری میں بنی اس فلم کے پروڈیوسر انور کمال پاشا تھے، جبکہ سلطان راہی، انجمن، اقبال حسن اورمصطفیٰ قریشی نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ ’ شیر خان‘ میں سلطان راہی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور فلم نے پاکستان میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ فلم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے کئی سنیما گھروں میں طویل عرصے تک دکھایا گیا اور اس نے ڈائمنڈ جوبلی بھی منائی۔ فلم کی کامیابی نے انجمن کو بھی راتوں رات شہرت دلائی۔ اس کے بعد سلطان راہی اور انجمن کی جوڑی پاکستانی پنجابی سنیما کی مقبول ترین جوڑیوں میں شمار ہونے لگی اور دونوں نے متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ ’ آگ ہی آگ‘ میں دھرمیندر نے باپ کا کردار ادا کیا تھا، جبکہ ’ شیر خان‘ میں یہی کردار اقبال حسن نے ادا کیا تھا۔ پاکستانی فلم میں سلطان راہی نے ان کے بیٹے کا کردار نبھایا تھا، جبکہ مصطفیٰ قریشی ایک ایسے پولیس افسر کے کردار میں تھے جو شیر خان سے بدلہ لینے کی کوشش کرتا ہے۔ ’ آگ ہی آگ‘ میں بھی ان کرداروں اور کہانی کے بنیادی ڈھانچے میں مماثلت دیکھی جاسکتی ہے۔
فلم ’’آگ ہی آگ‘‘ ہے تو چربہ فلم تھی لیکن وہ بھی پاکستانی فلم ’’شیر خاں‘‘ کی طرح بھارت میں کامیاب رہی۔