ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سی سی ڈی کا قیام ، لاہور میں سنگین جرائم میں 58 فیصد کمی، رپورٹ جاری

سی سی ڈی کا قیام ، لاہور میں سنگین جرائم میں 58 فیصد کمی، رپورٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عابد چودھری: سی سی ڈی لاہور ریجن نے اپنی ایک سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق لاہور میں سنگین جرائم کی شرح میں 58 فیصد تک نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ میں قتل، ڈکیتی، رابری، موٹر سائیکل و گاڑی چوری اور دیگر سنگین جرائم میں واضح کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سی سی ڈی کے قیام سے قبل لاہور ریجن میں سنگین جرائم کی 29 ہزار 471 وارداتیں رپورٹ ہوئی تھیں، جبکہ قیام کے بعد ایک سال کے دوران یہ تعداد کم ہو کر 12 ہزار 470 رہ گئی۔

رپورٹ کے مطابق قتل کی وارداتوں میں 36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سی سی ڈی کے قیام سے قبل قتل کے 399 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تعداد 254 رہی۔

ڈکیتی کی وارداتوں میں 53 فیصد کمی دیکھی گئی، جہاں سی سی ڈی کے قیام سے قبل 72 جبکہ بعد ازاں 34 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ اسی طرح رابری کے واقعات میں 77 فیصد تک کمی آئی اور وارداتوں کی تعداد 8 ہزار 649 سے کم ہو کر ایک ہزار 990 رہ گئی۔

لاہور ریجن میں دوران ڈکیتی قتل کے واقعات میں 25 فیصد کمی جبکہ ڈکیتی کے دوران زخمی کرنے کے واقعات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق دوران ریپ قتل کے مقدمات میں 100 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔

موٹر سائیکل سنیچنگ کی وارداتوں میں 74 فیصد، موٹر سائیکل چوری میں 49 فیصد اور کار چوری کے واقعات میں 75 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق سی سی ڈی کے قیام سے قبل 379 گاڑیاں چوری ہوئی تھیں جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ تعداد کم ہو کر 94 رہ گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نقب زنی کے واقعات میں بھی 46 فیصد کمی آئی۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران سی سی ڈی کا ایک اہلکار شہید جبکہ 46 اہلکار زخمی ہوئے۔

ترجمان سی سی ڈی کا کہنا ہے کہ جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ادارے کی مؤثر حکمت عملی اور کارکردگی کا ثبوت ہے، جبکہ عوامی تعاون سے سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔