ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

تعلیمی بورڈزمیں نمبروں کے بجائے گریڈ سسٹم متعارف

تعلیمی بورڈزمیں نمبروں کے بجائے گریڈ سسٹم متعارف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :  سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں ’’نمبر سسٹم‘‘ ختم کر دیا۔

 وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو کے مطابق میٹرک اور انٹر کے لیے نئے گریڈنگ نظام کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل تصور ہوں گے۔

 اسماعیل راہو نے بتایا کہ تعلیمی بورڈز میں امتحانی نتائج کے لیے رائج قدیم نمبر سسٹم ختم کرکے بین الاقوامی معیار کا نیا ’گریڈنگ سسٹم‘ نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

  یہ اہم فیصلہ انٹر بورڈ کو آرڈینیشن کمیشن (IBCC) کے وفاقی سطح پرکیے گئے پالیسی فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ نئے گریڈنگ سسٹم کا اطلاق صوبے بھر میں مرحلہ وار ہوگا، رواں سال 2026 میں 9 ویں اور 11ویں (SSC-I / HSSC-I) کے پہلے سالانہ امتحانات سے اس کا آغاز کیا جائے گا۔

 صوبائی وزیر کے مطابق سال 2027 میں دہم اور بارہویں (SSC-II / HSSC-II) کے سالانہ امتحانات پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔

 اب طلبہ کی کارکردگی کو نمبروں کے بجائے درج ذیل گریڈز میں تقسیم کیا جائے گا۔

 *اے ڈبل پلس (A++) 96 فیصد سے100 فیصد جب کہ اے پلس (A+) 91 فیصد سے 95 فیصد ہوگا۔ *اے (A) 86 فیصد سے 90 فیصد جب کہ بی ڈبل پلس (B++) 81 فیصد سے 85 فیصد ہوگا۔ *بی پلس (B+) 76 فیصد سے 80 فیصد جب کہ بی (B) 71 فیصد سے 75 فیصد ہوگا۔ *سی پلس (C+) 61 فیصد سے 70 فیصد جب کہ سی (C) 51 فیصد سے 60 فیصد ہوگی۔ *ڈی (D) 40 فیصد سے 50 فیصد امرجنگ ہوگا۔ *یو (U) 40 فیصد سے کم (ناکام / انڈر گریڈ) ہوگا۔

Caption

اسماعیل راہو کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

  وہ طلبہ جو کسی بھی پرچے میں 40 فیصد سے کم نمبر حاصل کریں گے، انہیں ’یو‘ یعنی ’ان گریڈڈ‘ قرار دیا جائے گا۔

 صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسے طلبہ کو اسی پرچے میں دوبارہ امتحان دے کر اپنی کارکردگی بہتر کرنے کا موقع فراہم کیاجائے گا۔

  اس نظام کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت لانا ہے، تمام بورڈز میں اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے (GPA) سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔

 وزیر جامعات کے مطابق سندھ حکومت نے اس نئی پالیسی کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔