ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں اساتذہ کا نیا ڈریس کوڈ؛ اساتذہ نے گاؤن پہننا شروع کردیا

پنجاب میں اساتذہ کا نیا ڈریس کوڈ؛ اساتذہ نے گاؤن پہننا شروع کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے لیے نیا ڈریس کوڈ نافذ کر دیا گیا ہے۔ اب تمام ٹیچر  معمول کے اجازت شدہ لباس کے اوپر سیاہ گاؤن لازمی پہنیں گے۔ کئی سکولوں میں ٹیچرز نے  23 فروری سے پہلے ہی اپنے لباس میں سیاہ گاؤن کا اضافہ کر لیا ہے۔

 پنجاب کے تمام سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے لیے نیا پروفیشنل ڈریس کوڈ نافذ کیا گیا ہے۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کےنوٹیفکیشن کے مطابق نئے ڈریس کوڈ پر عملدرآمد 23 فروری 2026 سے لازمی ہے .تاہم بہت سے ٹیچرز نے پہلے ہی اس کوڈ کو اپنا لیا ہے۔

 نئے ڈریس کوڈ کے تحت تعلیمی اوقات کے دوران تمام اساتذہ کے لیے سیاہ رنگ کا  گاؤن  پہننا لازم ہے،  سیاہ گاؤن کو تعلیمی وقار، پیشہ ورانہ شناخت اور نظم و ضبط کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

 مرد  ٹیچرز کے لیے شلوار قمیض یا  پینٹ شرٹ کے ساتھ بند جوتے یا سٹرپ والی سینڈل تجویز کی گئی ہے، جبکہ خواتین اساتذہ کو بند جوتے یا موڈیسٹ (شائستہ) سینڈل پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  اس ڈریس کوڈ کا اطلاق دونوں جینڈرز، تمام کیڈرز اور تمام علاقوں میں تمام ٹیچنگ اسٹاف پر ہوگا۔ اس اقدام سے اسکولوں میں نظم و ضبط، یکسانیت اور پیشہ ورانہ ماحول کو فروغ ملے گا۔ سکولوں کے ہیڈماسٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ  ڈریس کوڈ  پر عملدرآمد  کو یقینی بنائیں۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو اس فیصلے کو نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

 ٹیچرز نے گاؤن پہننا شروع کر دیئے

 حکومت پنجاب کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ نے معیاری تعلیمی گاؤن کو اپنا لیا ہے جو تدریسی ماحول میں پیشہ ورانہ مہارت، وقار اور نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔ فیس بک پر ایک پوسٹ میں   ٹیچرز کی تصویریں شئیر کی گئی ہین جو  معمول کے لباس شلوار قمیض کے اوپر اب گاؤن پہن کر تدریسی سرگرمیاں کر رہی ہیں۔

 اس سے پہلے خاتون ٹیچرز گھر سے برقع یا عبایا اوڑھ کر یا چادر اوڑھ کر سکول پہنچتی تھیں اور سکول کے اندر برقع یا عبایا کے بغیر کام کرتی تھیں۔  خاتون ٹیچرز کے لئے گاؤن عبایا کا متبادل ثابت ہوا ہے۔   مرد ٹیچر اب تک معمول کا شلوار قمیض یا پینٹ شرٹ پہن کر اس پر موسم کے مطابق کوٹ یا سویتر یا جیکٹ اوڑھ کر سکول آتے تھے، اب ان کے لباس مین گاؤن کے اضافہ سے نمایاں تبدیلی آئی ہے۔