سٹی42: سال 2025 کے بارے میں آسٹرولوجسٹوں اور نجومیوں نے کہا تھاکہ اس سال کے دوران بہت سے الٹے واقعات ہوں گے کیونکہ دنیا اس وقت ہر شے کو الٹ پلٹ کر دینے کی طاقت رکھنے والے سیارہ پلوٹو کے زیر اثر ہے۔ تب تو کم لوگوں کو اس پیش گوئی کا یقین آیا ہو گا لیکن اب پرویز خٹک کے جمعیت علما اسلام (فضل الرحمان) میں شامل ہونے پر اچھے اچھوں کو یقین آ جائے گا کہ 2025 مختلف سال ہے اور اس سال بہت سے الٹے کام ہوں گے۔
بتانے والے بتا رہے ہیں کہ پاکستان تحریک انساف کے دس سال تک سرگرم رہنما رہنے والے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلی اور عمران خان حکومت کے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے جمعیت علما اسلام(جے یو آئی) میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے جس کا اعلان وہ 22 فروری کو کریں گے۔
ذرائع کنے بتایا ہے کہ پرویز خٹک کی جمعیت میں شمولیت کا معاملہ طے ہو چکا ہے، بلکہ وہ اس وقت جمعیت میں ہی ہیں، اس کا رسمی اعلان 22 فروری کو یقنی کل جمعہ البارک کے مبارک دن ہو گا۔ پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور جمیعت علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کیا،اس ملاقات میں پرویز خٹک کے بھاٸی لیاقت خٹک بھی موجود تھے۔
ملاقات میں پرویز خٹک اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان طویل مشاورت ہوئی،پرویز خٹک 22 فروری کو مانکی شریف نوشہرہ میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پریس کانفرنس کریں گے جس میں نیوز کیمروں کے سامنے وہ جمعیت کی مخصوص دستار باندھ کر جمعیت علما اسلام میں شامل ہوں گے۔
پرویز خٹک کی جمعیت میں شمولیت کے متعلق فضل الرحمان کا 2023 کا مؤقف
ڈیڑھ سال پہلے جب پرویز خٹک کے جمعیت علما اسلام میں شامل ہونے کے متعلق قیاس آرائیاں ہوئیں تو 12 جون 2023 کو صحافیوں نے مولانا فضل الرحمان سے پرویز خٹک کی جمعیت میں شمولیت کے حوالے سے سوال کیا تو مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ان ساری چیزوں کو جماعتیں دیکھتی ہیں، جماعتیں اندھی نہیں ہوتیں، جمعیت علما اسلام نطریاتی جماعت ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا، اگر ایک شخص جمعیت میں آنا چاہتا ہے تو جمعیت کے دروازے ہر آدمی کے لئے کھلے ہیں لیکن جمعیت میں آنے سے کسی کا جرم معاف نہیں ہو جاتا، اپنے جرم کے ضمن میں اسے عدالت کا سامنا کرنا چاہئے اور قانونی مراحل سے گزرنا چاہئے۔
پرویز خٹک کا سیاسی کیرئیر
پرویز خٹک نے سیاست کی ابتدا جنرل ضیا الحق کی آمریت کے دوران ضلع کونسل کا الیکشن لڑنے سے کی تھی۔ تقریباً انہی سالوں میں مولانا فضل الرحمان خان نے بھی سیاست کا آغاز کیا تھا لیکن وہ پہلے دن سے ہی ایم آر ڈی کا حصہ تھے اور جنرل ضلا الحق کے سخت ناقد تھے۔ پرویز خٹک بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سرگرم رہنما بن گئے تھے۔ اس کے بعد وہ پاکستان پیپلز پارٹی شیر پاؤ میں چلے گئے، دوبارہ پیپلز پارٹی میں بھی آ گئے، جب پی ٹی آئی مقبول ہوئی تو وہ اپنے ساتھیوں سمیت پی ٹی آئی کا حسہ بن گئے، پی ٹی آئی کے اقتدار کا سورج غروب ہوا تو پرویز خٹک 190 ملین پاأنڈ کیس میں استغاثہ کے ایک گواہ تھے۔
پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت ختم ہونے کے بعد پرویز خٹک نے "پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین" (PTI-P) بنائی اور گزشتہ الیکشن میں خیبر پختونخوا کے کئی حلقوں میں اس پارٹی کے امیدوار پی ٹی آئی کے امیدواروں کے مقابل کھڑے کئے، لیکن اس الیکشن میں ان کی پارٹی کو عوام کی تائید نہ مل سکی۔ الیکشن کے بعد پرویز خٹک سیاست سے عملاً لاتعلق ہو گئے تھے۔ اب خبر آئی ہے کہ وہ جمعیت علما اسلام کے سٹیج پر طلوع ہونے والے ہیں۔