سٹی42: توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو فی کس سترہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے لیکن ان کی باقی سزا سترہ سال سے کم عرصہ ہو گی۔ یہ بات تحریری فیصلہ سے سامنے آئی ہے۔
آج سپیشل جج سنٹرل ارجمند شاہ نے پہلے اپنی عدالت میں توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنایا، پھر ان کی جانب سے تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا۔
تحریری فیصلہ میں معزز جج نے وضاحت کی یہ مجرموں کی سزا ان کو گرفتار کئے جانے کے دن سے شمار ہو گی۔ مجرموں کے عرصہ حوالات کو بھی سزا میں شامل کر لیا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو نیب نے 13 جولائی 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں گرفتار قرار دیا تھا۔ اس وقت دونوں اڈیالہ جیل میں دوسرے معاملات کی وجہ سے قید تھے۔ آج سپیشل جج سنترل ارجمند شاہ کے تحریری فیصلہ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی توشہ خانہ ٹو کیس کی سزا میں سے تقریباً ایک سال پانچ ماہ قید کاٹ چکے ہیں۔ اس مقدمہ کی سزا میں سے اب صرف پندرہ سال سات ماہ قید کی سزا کاٹنا باقی ہے۔
جیل مینوئل کے مطابق قیدیوں کو اچھے رویہ کے ساتھ سزا کاٹنے کے انعام میں وقتاً فوقتاً سزاؤں میں کمی کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے با اختیار افراد بھی مختلف تہواروں کے موقع پر جیلوں میں بند قیدیوں کی سزاؤں میں کئی کئی ماہ کی تخفیف کے اعلانات کرتے رہتے ہیں۔ ان تمام تخفیفوں کے شامل کر کے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل میں رہنے کی مدت مزید کم ہو جائے گی۔
توشہ خانہ ٹو کیس کی سزا شروع کب ہو گی
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں آج سنائی گئی سزا "190 ملین پاؤنڈ کیس" کی سزا ختم ہونے کے بعد شروع ہو گی.دونوں کو ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس میں 14 سال قید کی سزا ہوئی ہے۔ جب پہلے سنائی گئی سزا مکمل ہو گی تو اس کے بعد آج سنائی گئی 17 سال قید کی سزا شروع ہوگی۔ اس سزا کے باقی ماندہ ساڑھے پندرہ سال شمار ہوں گے۔